صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
164. ذكر عبد الله بن عمرو بن حرام أبو جابر رضوان الله عليه-
- ذکر عبد اللہ بن عمرو بن حرام، ابو جابر، رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت
حدیث نمبر: 7020
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَمَرَ أَبِي بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا جَابِرُ، أَلْحَمٌ ذَا؟ قُلْتُ: لا، وَلَكِنَّهَا خَزِيرَةٌ، فَأَمَرَ بِهَا فَقُبِضَتْ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِِلَى أَبِي، قَالَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلْ قَالَ شَيْئًا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَا هَذَا يَا جَابِرُ، أَلْحَمٌ ذَا؟ فَقَالَ أَبِي: عَسَى أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اشْتَهَى اللَّحْمَ، فَقَامَ إِِلَى دَاجِنٍ لَهُ فَذَبَحَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْتُ إِِلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا جَابِرُ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَعْتُ إِِلَى أَبِي، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلْ قَالَ شَيْئًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَا هَذَا؟ أَلْحَمٌ ذَا؟ فَقَالَ أَبِي: عَسَى أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اشْتَهَى اللَّحْمَ، فَقَامَ إِِلَى دَاجِنٍ عِنْدَهُ فَذَبَحَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِِلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَزَى اللَّهُ الأَنْصَارَ عَنَّا خَيْرًا، وَلا سِيَّمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے والد نے خزیرہ بنانے کا حکم دیا وہ تیار ہو گیا تو انہوں نے مجھے حکم دیا میں اسے اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اپنے گھر میں موجود تھے۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کیا ہے جابر، کیا یہ گوشت ہے۔ میں نے عرض کی: جی نہیں یہ خزیرہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ لے لیا گیا۔ جب میں اپنے والد کی طرف واپس آیا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا: تھا۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے جابر یہ کیا ہے کیا یہ گوشت والی چیز ہے، تو میرے والد نے کہا: شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گوشت کھانے کو جی چاہ رہا ہو گا وہ اٹھے اور بکری کے پاس گئے اور بکری کو ذبح کیا پھر ان کے حکم کے تحت اسے بھون لیا گیا پھر انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں وہ گوشت اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ اپنی اسی محفل میں تشریف فرما تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے جابر یہ کیا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے والد کے پاس گیا انہوں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا: تھا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تھا: کیا یہ گوشت والی چیز ہے؟ میرے والد نے کہا: ہو سکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گوشت کھانے کو جی چاہ رہا ہو وہ اپنی بکری کے پاس گئے انہوں نے اسے ذبح کیا ان کے حکم کے تحت اسے پکا لیا گیا پھر انہوں نے مجھے ہدایت کی تو میں وہ گوشت اٹھا کر آپ کے پاس آ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو جزائے خیر عطا کرے بطور خاص عبداللہ بن عمرو بن حرام کو اور سعد بن عبادہ کو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7020]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6981»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (461).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري