الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
167. ذكر أنس بن النضر الأنصاري رضوان الله عليه-
- ذکر انس بن نضر انصاری رضی اللہ عنہ اور اس پر اللہ کی رحمت
حدیث نمبر: 7023
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: سُمِّيتُ بِهِ وَلَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبُرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّبَتُ عَنْهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَعْدُ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ؟ قَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ، أَجِدُهَا دُونَ أُحُدٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتلَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ بَيْنَ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ"، فَقَالَتْ عَمَّتِي أُخْتُهُ: فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِِلا بِبَنَانِهِ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلا سورة الأحزاب آية 23.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ، جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے یہ بات ان پر بہت گراں گزری تھی۔ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے پہلی جنگ کی تھی میں اس میں شریک نہیں ہوا اللہ کی قسم اب اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کر دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے اس کے علاوہ کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی پھر وہ اگلے سال غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو انہوں نے کہا: اے ابوعمرو کہاں کا ارادہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: جنت کی خوشبو مجھے احد کے دوسری طرف سے محسوس ہو رہی ہے پھر انہوں نے جنگ میں حصہ لیا، یہاں تک کہ شہید ہو گئے ان کے جسم پر تلوار، نیزے اور تیر کے زخموں کے اسی (80) سے زیادہ نشانات تھے۔ میری پھوپھی نے کہا: میں نے اپنے بھائی کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”کچھ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو سچ ثابت کیا ان میں سے کچھ نے اپنی نذر کو پورا کر لیا اور کچھ منتظر ہیں انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7023]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6984»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2805)، م (6/ 45 - 46).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري