صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
95. باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر البيان بأن المرء يجب عليه أن يقنع نفسه عن فضول هذه الدنيا الفانية الزائلة بتذكرها عاقبة الخير وأهله
فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس فانی اور زائل دنیا کے فضول سے قناعت کی طرف راغب کرے، اس کے خیر اور اس کے اہل کی عاقبت کو یاد کر کے
حدیث نمبر: 704
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي الْمَاضِي بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيرٌ مُشَبَّكٌ بِالْبَرْدِيِّ، عَلَيْهِ كِسَاءٌ أَسْوَدُ قَدْ حَشَوْنَاهُ بِالْبَرْدِيِّ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَلَيْهِ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمَا اسْتَوَى جَالِسًا، فَنَظَرَا، فَإِذَا أَثَرُ السَّرِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَبَكَيَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُؤْذِيكَ خُشُونَةُ مَا نَرَى مِنْ سَرِيرِكَ وَفِرَاشِكَ، وَهَذَا كِسْرَى وَقَيْصَرُ عَلَى فُرُشِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، فقَالَ: " لا تَقُولا هَذَا، فَإِنَّ فِرَاشَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِي النَّارِ، وَإِنَّ فِرَاشِي وَسَرِيرِي هَذَا عَاقِبَتُهُ إِلَى الْجَنَّةِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مخصوص پلنگ تھا، جسے مخصوص قسم کے (پتوں، یا شاخوں) کے ذریعے بنا گیا تھا، اس پر سیاہ رنگ کی چادر موجود تھی جس کے اندر ہم نے اس قسم کے پتے بھرے ہوئے تھے، ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوئے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، ان دونوں صاحبان نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر پلنگ کا نشان موجود ہے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما رو پڑے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کا جو پلنگ اور جو بستر ہم دیکھ رہے ہیں کیا اس کی سختی آپ کو تکلیف نہیں دیتی ہے، جبکہ قیصر اور کسری ریشم اور دیباج کے اوپر آرام کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں یہ بات نہ کرو، کیونکہ قیصر اور کسری کے بستر جہنم میں ہوں گے اور میرا پلنگ اور میرا بستر، ان کا ٹھکانہ جنت میں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 704، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6228» «رقم طبعة با وزير 702»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (4/ 114).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
الماضي بن محمد: هو ابن مسعود الغافقي، ثم التيمي، أبو مسعود المصري، كاتب المصاحف، ذكره المؤلف في الثقات، وقال مسلمة: كان ثقة، وقال أبو حاتم: لا أعرفه، وقال ابن يونس: توفي سنة ثلاث وثمانين ومئة، فيما قيل، وكان يضعف، وقال ابن عدي: منكر الحديث، وعامة ما يرويه لا يتابع عليه، وفي «التقريب»: ضعيف. وباقي رجاله ثقات رجال الصحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 704 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق