صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
190. ذكر عبد الله بن رواحة رضوان الله عليه-
- ذکر عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7048
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيُّ وَكَانَتِ الأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَأَتَيْتُهُ وَقَدِ اجْتَمَعَ إِِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الأُمَرَاءِ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَإِِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ، فَإِِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَوَثَبَ جَعْفَرٌ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ أَرْغَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا، فَقَالَ: امْضِ، فَإِِنَّكَ لا تَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ خَيْرٌ، فَانْطَلَقُوا، فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى: الصَّلاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَ: أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي؟ انْطَلَقُوا فَلَقَوَا الْعَدُوَّ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا، اسْتَغْفِرُوا لَهُ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، اسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَثَبَتَتْ قَدَمَاهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، اسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَبْعَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ انْتَصِرْ بِهِ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفَ اللَّهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مِنْ ذِكْرِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ إِِلَى هَاهُنَا هُمُ الَّذِينَ مَاتُوا أَوْ قُتِلُوا فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى جَنَّتِهِ، ثُمَّ إِِنَّا ذَاكِرُونَ بَعْدَهُ هَؤُلاءِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ مَنْ صَحَّتْ لَهُ الْفَضِيلَةُ مَرْوِيَّةً، ثُمَّ نُعْقِبُهُمُ الأَنْصَارَ إِِنْ يَسَّرَ اللَّهُ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ.
خالد بن سمیر بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن رواحہ انصاری ہمارے پاس آئے انصار انہیں فقیہہ قرار دیتے تھے میں ان کے پاس آیا لوگ ان کے اردگرد اکٹھے ہو چکے تھے انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کا لشکر روانہ کیا آپ نے فرمایا: زید بن حارثہ تمہارا امیر ہو گا اگر زید شہید ہو جائے، تو جعفر ہو گا اگر جعفر شہید ہو جائے تو عبداللہ بن رواحہ ہو گا۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آپ مجھ پر زید کو امیر بنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے کہ کس چیز میں زیادہ بہتری ہے پھر وہ لوگ روانہ ہوئے جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا وقت گزر گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر چڑھے آپ نے یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ لوگ اکٹھے ہو جائیں پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں جنگ میں حصہ لینے والے تمہارے لشکر کے بارے میں بتاؤں یہ لوگ گئے ان کا دشمن سے سامنا ہوا تو زید شہید ہو گیا تم لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔ لوگوں نے ان کے لیے دعاء مغفرت کی پھر جھنڈا جعفر بن ابوطالب نے پکڑ لیا اور دشمن پر شدید حملہ کیا، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا تم لوگ اس کے لیے دعاء مغفرت کرو پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ نے پکڑ لیا اس کے دونوں پاؤں ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گیا تم لوگ اس کے لیے دعائے مغفرت کرو پھر جھنڈا خالد بن ولید نے پکڑ لیا اسے امیر مقرر نہیں کیا گیا تھا وہ خود امیر بن گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی۔ ”اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، تو اس کی مدد کر۔“ (راوی کہتے ہیں) اسی دن سے خالد کا لقب سیف اللہ ہوا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے تذکرے سے لے کر یہاں تک یہ وہ لوگ ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہید ہوئے یا فوت ہوئے اس سے پہلے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کی طرف منتقل کیا اب ہم اس کے بعد قریش سے تعلق رکھنے والے ان مہاجرین کا ذکر کریں گے جن کی فضیلت کے بارے میں مستند روایات منقول ہیں اور اس کے بعد انصار کا ذکر کریں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے یہ آسان کیا اور اس میں سہولت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7048]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے تذکرے سے لے کر یہاں تک یہ وہ لوگ ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شہید ہوئے یا فوت ہوئے اس سے پہلے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کی طرف منتقل کیا اب ہم اس کے بعد قریش سے تعلق رکھنے والے ان مہاجرین کا ذکر کریں گے جن کی فضیلت کے بارے میں مستند روایات منقول ہیں اور اس کے بعد انصار کا ذکر کریں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے یہ آسان کیا اور اس میں سہولت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7048]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7008»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (365 - 368).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي