صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
227. ذكر السبب الذي من أجله وقعت هذه المسابقة لبلال-
- ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر بلال کو یہ مقابلہ حاصل ہوا
حدیث نمبر: 7085
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ عِنْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ:" يَا بِلالُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمِلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الإِِسْلامِ، فَإِِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَةَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: مَا عَمَلٌ عَمِلْتُهُ أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا تَامًَّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِِلا صَلَّيْتُ لِرَبِّي مَا قُدِّرَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ" ، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے وقت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے بلال تم مجھے اپنے ایسے عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے مسلمان ہونے کے بعد کیا ہو اور تم نے اس کے حوالے سے (زیادہ ثواب کی امید کی ہو کیونکہ میں نے گزشتہ رات جنت میں اپنے سے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کے بارے میں مجھے زیادہ امید ہو البتہ یہ ہے کہ جب میں وضو کرتا ہوں، تو مکمل وضو کرتا ہوں خواہ رات یا دن کا کوئی بھی حصہ ہو اور پھر اس کے بعد جتنا میرے نصیب میں ہو اتنے نوافل ادا کرتا ہوں۔ ابواسامہ نامی راوی نے اس روایت کا اقرار کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7085]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7043»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 221): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي