صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
250. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر البيان بأن جبريل عليه السلام كان لا يدخل على المصطفى صلى الله عليه وسلم بيته إذا وضعت عائشة ثيابها-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس بیان کا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اس وقت داخل نہ ہوتے جب عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے کپڑے اتارتیں
حدیث نمبر: 7110
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ لَيْلَتِي انْقَلَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتْحَ الْبَابَ، فَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي، ثُمَّ تَقَنَّعْتُ بِإِزَارِي، فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى أَتَى الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ، فَلَيْسَ إِلا أَنِ اضْطَجَعْتَ، دَخَلَ، فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ؟"، قُلْتُ: لا شَيْءَ، قَالَ:" لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، قَالَ:" أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَلَهَزَ فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ:" أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ، قَالَ:" فَإِنَّ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِيَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ، فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ"، قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُولِي: السَّلامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ" .
محمد بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واقعے کے بارے میں بتاؤں؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میری مخصوص رات تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں جوتے اپنے پاؤں کے پاس رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر رکھی اور اپنے تہبند کے کنارے کو بستر پر بچھا دیا، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہوا کہ میں سو چکی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آرام سے جوتے پہنے، آرام سے اپنی چادر لی اور دروازہ کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور آرام سے ایک طرف چل پڑے، میں نے اپنی چادر اپنے سر پر لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت بقیع تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے، تو میں بھی واپس مڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلے تو میں نے بھی اپنی رفتار تیز کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور زیادہ تیز کی تو میں نے بھی اور زیادہ تیز کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں بھی واپس آ گئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آ گئی اور گھر کے اندر آئی، ابھی میں لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر کے اندر تشریف لے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے کہا: کچھ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو تم مجھے بتا دو یا پھر لطف کرنے والی اور خبر رکھنے والی ذات مجھے بتا دے گی۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہی وہ ہیولیٰ تھی جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس کی تکلیف مجھے محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ گمان کر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ چھپا لیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس اس وقت آئے جب تم نے دیکھا، وہ اندر اس لیے نہیں آئے کیونکہ تم اپنی چادر اتار چکی تھی، انہوں نے مجھے پکارا، میں نے اس بات کو تم سے پوشیدہ رکھا اور میں نے انہیں جواب دیا، میں نے یہ گمان کیا کہ تم سو چکی ہو، میں نے تمہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں تم مجھ سے وحشت محسوس نہ کرو (یعنی ڈر نہ جاؤ)، جبرائیل نے مجھے کہا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کروں۔“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیسے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: «السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ» ”اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والو! تم پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ ہم میں سے پہلے گزر جانے والے لوگوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے، اگر اللہ نے چاہا، تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 974، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3172، 4523، 7110، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2036، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1546، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7310، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25063» «رقم طبعة با وزير 7066»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (231 - 232): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7110 in Urdu
محمد بن قيس القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق