صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
278. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم بالبركة في جداد جابر-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جابر کے کھجور کے باغات میں برکت کی دعا کا
حدیث نمبر: 7139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا، وَلَمْ يُعْرَفُوا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فأتيت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِذَا جَدَدْتَهُ وَوَضَعْتَهُ، فَآذِنْ لِي"، فَلَمَّا جَدَدْتُ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ، آذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَجَلَسَ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ:" ادْعُ غُرَمَاءَكَ وَأَوْفِهِمْ"، فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ لِي ثَلاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا عَجْوَةً، قَالَ: فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْمَغْرِبِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا" ، فَقَالا: قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد کا انتقال ہو گیا ان کے ذمے قرض تھا میں نے قرض خواہوں کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ میرے والد کے ذمے جو ادائیگی تھی اس کے بدلے میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ان کا یہ خیال تھا اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو سکے گی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کھجوریں توڑ لو اور انہیں رکھ لو، تو مجھے اطلاع کر دینا جب میں نے کھجوریں توڑ لیں اور انہیں مسجد میں رکھ لیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ نے ان کے لیے دعائے برکت کی پھر آپ نے فرمایا: اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ انہیں پوری ادائیگی کرو (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو جس بھی شخص نے میرے والد سے قرض لینا تھا میں نے اسے مکمل ادائیگی کر دی پھر بھی میرے پاس عجوہ کھجوروں کے تیرہ وسق بچ گئے۔ راوی کہتے ہیں: میں مغرب کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے آپ نے ارشاد فرمایا: ابوبکر اور عمر کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو اس بارے میں بتاؤ، تو ان دونوں نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عمل کیا تھا ہمیں اسی وقت پتہ چل گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7139]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7095»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (6502). تنبيه!! رقم (6502) = (6536) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
وهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري