پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
307. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر حزن ثابت بن قيس عند نزول هذه الآية-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ثابت بن قیس کے اس آیت کے نازل ہونے پر غمگین ہونے کا
حدیث نمبر: 7169
أَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمُ فَوْقَ صَوْتِ صَوْتِ النَّبِيِّ، قَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ: أَنَا وَاللَّهِ الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيَّ، فَحَزِنَ وَاصْفَرَّ، فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ يَقُولُ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِنِّي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" ، فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو۔“ تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ شخص ہوں کہ میری آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی ہوتی ہے، تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر غضب ناک ہو گا اس بات پر وہ غمگین ہو گئے اور ان کا رنگ زرد ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر موجودگی محسوس کر کے ان کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ کو بتایا گیا: اے اللہ کے نبی! وہ یہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں میں اہل جہنم میں سے نہ ہو جاؤں کیونکہ میری آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جی نہیں) بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو ہم انہیں ایک جنتی شخص کے طور پر اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7169]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3613، 4846، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 119، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7168، 7169، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8170، 11449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12594» «رقم طبعة با وزير 7125»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7169 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري