🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
325. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر كنية هذا الصبي المتوفى لأبي طلحة وأم سليم-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس بچے کی کنیت کا جو ابو طلحہ اور ام سلیم کا فوت ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7188
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، كَانَ لَهُ ابْنٌ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟"، قَالَ: فَمَرِضَ وَأَبُو طَلْحَةَ غَائِبٌ فِي بَعْضِ حِيطَانِهِ، فَهَلَكَ الصَّبِيُّ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَغَسَّلَتْهُ، وَكَفَّنَتْهُ، وَحَنَّطَتْهُ، وَسَجَّتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا، وَقَالَتْ: لا يَكُونُ أَحَدٌ يُخْبِرُ أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ كَالا، وَهُوَ صَائِمٌ، فَتَطَيَّبَتْ لَهُ، وَتَصَنَّعَتْ لَهُ، وَجَاءَتْ بِعَشَائِهِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَبُو عُمَيْرٍ؟ فَقَالَتْ: تَعَشَّى وَقَدْ فَرَغَ، قَالَ: فَتَعَشَّى، وَأَصَابَ مِنْهَا مَا يُصِيبُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَهْلَ بَيْتٍ أَعَارُوا أَهْلَ بَيْتٍ عَارِيَّةً، فَطَلَبَهَا أَصْحَابُهَا أَيَرُدُّونَهَا أَوْ يَحْبِسُونَهَا؟ فَقَالَ: بَلْ يَرُدُّونَهَا عَلَيْهِمْ، قَالَتْ: احْتَسِبْ أَبَا عُمَيْرٍ، قَالَ: فَغَضِبَ وَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا"، قَالَ: فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَتَّى إِذَا وَضَعَتْ وَكَانَ يَوْمُ السَّابِعِ، قَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَنَسُ، اذْهَبْ بِهَذَا الصَّبِيِّ وَهَذَا الْمِكْتَلِ وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ عَجْوَةٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُحَنِّكُهُ وَيُسَمِّيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَيْهِ وَأَضْجَعَهُ فِي حِجْرِهِ، وَأَخَذَ تَمْرَةً فَلاكَهَا، ثُمَّ مَجَّهَا فِي فِيِّ الصَّبِيِّ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَتِ الأَنْصَارُ إِلا حُبَّ التَّمْرِ ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا، جس کی کنیت ابوعمیر تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دریافت کیا کرتے تھے اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ بیمار ہو گیا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کسی باغ میں گئے ہوئے تھے اس بچے کا انتقال ہو گیا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں، انہوں نے اس بچے کو غسل دیا اسے کفن دیا اسے خوشبو لگائی اور اسے کپڑے میں ڈھانپ دیا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کوئی بھی شخص ابوطلحہ کو اس بارے میں اطلاع نہ دے میں خود انہیں اس بات کی اطلاع دوں گی پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تھکے ہوئے آئے انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے خوشبو لگائی اور ان کے لیے تیار ہو گئیں وہ کھانا لے آئیں۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ابوعمیر کا کیا حال ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ شام کا کھانا کھا کر فارغ ہو چکا ہے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطلحہ آپ کا کیا خیال ہے اگر کسی گھرانے کے لوگ کسی دوسرے گھر والوں کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں اور پھر اس چیز کے مالکان دوسرے لوگوں سے اس کا مطالبہ کریں، تو کیا وہ دوسرے لوگ اس چیز کو واپس کر دیں گے یا اپنے پاس رکھیں گے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ انہیں وہ چیز انہیں واپس کرنی چاہئے، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ابوعمیر کے حوالے سے ثواب کی امید رکھیے، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے قول کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کو برکت نصیب کرے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا عبداللہ بن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے حاملہ ہو گئیں جب انہوں نے اس بچے کو جنم دیا تو اس کی پیدائش کے ساتویں دن سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اے انس اس بچے کو لے جاؤ اور یہ برتن بھی لے جاؤ اس میں کچھ عجوہ کھجوریں ہیں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھٹی دیں اور اس کا نام تجویز کریں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے تھے آپ نے اس بچے کو اپنی گود میں لٹایا آپ نے ایک کھجور لی اسے چبایا پھر وہ کھجور اس بچے کے منہ میں ڈال دی، تو اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار واقعی کھجوروں سے محبت کرتے ہیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7188]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7144»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (35 - 38).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عمارة بن زاذان الصيدلاني، أبو سلمة
Newعمارة بن زاذان الصيدلاني ← ثابت بن أسلم البناني
صدوق كثير الخطأ
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد
Newشيبان بن أبي شيبة الحبطي ← عمارة بن زاذان الصيدلاني
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← شيبان بن أبي شيبة الحبطي
ثقة