صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
375. باب فضل الأمة - ذكر سؤال المصطفى صلى الله عليه وسلم ربه جل وعلا لأمته بأن لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم-
امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے رب سے درخواست کا کہ ان کی امت پر غیروں سے دشمن مسلط نہ کرے
حدیث نمبر: 7238
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، فَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زَوَى لِي مِنْهَا، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الأَحْمَرَ وَالأَبْيَضَ، فَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لأُمَّتِي أَنْ لا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ، فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ، فَإِنَّ رَبِّي، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً، فَإِنَّهُ لا يُرَدُّ، وَإِنِّي أُعْطِيكَ لأُمَّتِكَ أَنْ لا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا" . قَالَ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنَ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تُعْبَدَ الأَوْثَانُ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلاثُونَ كَذَّابًونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لا نَبِيَّ بَعْدِي، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ" .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا۔ میری امت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا تھا اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے: سرخ اور سفید۔ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کرے گا جو کسی دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو جو ان کا قتل عام کر دے، تو میرے پروردگار نے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لوں تو پھر اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ میں آپ کی امت کے بارے میں آپ کو یہ چیز عطا کرتا ہوں کہ میں انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں کروں گا، اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا جو کسی دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو اور جو ان کا قتل عام کرے، خواہ وہ دشمن ان کے خلاف زمین کے کونے کونے سے اکٹھا ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) البتہ وہ لوگ خود ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہیں مل جائیں گے، یہاں تک کہ بتوں کی عبادت نہیں کی جانے لگے گی۔ میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کا دعویدار ہو گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہے گا اور وہ لوگ غالب رہیں گے، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (یعنی قیامت) آ جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7238]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1920، 2889، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6714، 7238، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8478، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4252، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2176، 2202، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 10، 3952، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2372، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18689، 18892، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22828» «رقم طبعة با وزير 7194»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م، بعضه كما تقدم (6679). تنبيه!! رقم (6679) = (6714) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7238 in Urdu
عمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي