صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
377. باب فضل الأمة - ذكر العلامة التي بها يعرف المصطفى صلى الله عليه وسلم أمته من سائر الأمم عند ورودهم على الحوض-
امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس علامت کا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو حوض پر دیگر امتوں سے پہچانیں گے
حدیث نمبر: 7240
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: " السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ، أَلا هَلُمَّ أَلا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا۔ ”اے اہل ایمان کی قوم کی بستی والو! تم پر سلام ہو۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔“ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ میرے بھائی وہ لوگ ہیں، جو بعد میں آئیں گے۔ میں حوض کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی امت کے جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے۔ آپ ان کو کیسے پہچانیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی شخص کے پاس ایسا گھوڑا ہو جس کی پیشانی پر سفید نشان ہو اور وہ گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان موجود ہو، کیا وہ شخص اپنے گھوڑے کو پہچان نہیں لے گا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جب وہ لوگ بھی قیامت کے دن آئیں گے تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور حوض کوثر پر میں ان کا پیش رو ہوں گا اور کچھ لوگوں کو میرے حوض سے یوں پرے کیا جائے گا، جس طرح گمشدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکاروں گا ادھر آؤ ادھر آؤ، تو یہ کہا: جائے گا: ان لوگوں نے آپ کے بعد (دین کے احکام میں) تبدیلی کر دی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ پرے ہو جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7240]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7196»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1043). تنبيه!! رقم (1043) = (1046) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي