صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
115. باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الاتكال على تفضل الله جل وعلا في أسباب دنياه دون التأسف على ما فاته منها
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنی دنیا کے اسباب میں اللہ جل وعلا کے فضل پر بھروسہ کرے، نہ کہ اس پر افسوس کرے جو اس سے فوت ہوا
حدیث نمبر: 725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى لا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَالْيَدُ الأُخْرَى الْقَبْضُ، يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ أَخْبَارٌ أُطْلِقَتْ مِنْ هَذَا النَّوْعِ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ مُشَبِّهَةٌ، عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ يَخْطُرَ ذَلِكَ بِبَالِ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ وَلَكِنْ أَطْلَقَ هَذِهِ الأَخْبَارِ بِأَلْفَاظِ التَّمْثِيلِ لِصِفَاتِهِ عَلَى حَسْبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ دُونَ تَكْيِيفِ صِفَاتِ اللَّهِ، جَلَّ رَبُّنَا عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ، أَوْ يُكَيَّفَ بِشَيْءٍ مِنْ صِفَاتِهِ، إِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات اور دن میں مسلسل خرچ کرنا اس میں کوئی کمی نہیں کرتا، کیا تم نے یہ بات نوٹ نہیں کی کہ جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس دن سے خرچ کر رہا ہے اور اس چیز نے اس کے ہاتھ میں موجود چیز میں کوئی کمی نہیں کی ہے، جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ قبض کرنے والا ہے، وہ بلندی اور پستی عطا کرتا ہے اور اس کا عرش پانی پر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات کو اس قسم میں مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ محدثین عظام مشبہہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، حالانکہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ محدثین میں سے کسی ایک کے ذہن میں بھی اس کے حوالے سے خیال آیا ہو۔ لیکن یہ روایات اللہ تعالیٰ کی صفات کے لیے مثالی الفاظ کے ہمراہ اسی طرح مطلق طور پر منقول ہیں، جو لوگوں کے آپس کے محاورے کے مطابق ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے، یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی کیفیت بیان کی جائے، کیونکہ ﴿اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے﴾ [سورة الشورى: 11] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4684، 5352، 7411، 7419، 7496، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 993، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 725، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7686، 11175، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3045، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 197، 2123، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7418» «رقم طبعة با وزير 723»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري متابع، ومن فوقه على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 725 in Urdu
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي