صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
424. باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر الخبر الدال على أن الله تعالى ولي بني سلمة وبني حارثة-
صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کا ولی ہے
حدیث نمبر: 7288
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْبَلْخِيِّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " فِينَا نَزَلَتْ: إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا، بَنُو سَلِمَةَ، وَبَنُو حَارِثَةَ، قَالَ عَمْرٌو: قَالَ جَابِرٌ: وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ: وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ سستی دکھا جائیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار تھا۔“
(راوی کہتے ہیں) اس سے مراد بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بھی فرمایا ہے ”اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7288]
(راوی کہتے ہیں) اس سے مراد بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بھی فرمایا ہے ”اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7288]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7244»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4051)، م (7/ 173).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري