🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن قراءة المرء بين القراءتين كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجهر والمخافتة جميعا بها
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کا قرأت کے درمیانی انداز میں پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز اور آہستگی دونوں سے زیادہ پسند تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 733
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ صَوْتَهُ، وَمَرَّ بِعُمَرَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لأَبِي بَكْرٍ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ"، قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ، قَالَ:" وَمَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ، وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَحْتَسِبُ بِهِ. قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَبِي بَكْرٍ:" ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا"، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِعُمَرَ:" اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا" .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا وہ نماز ادا کر رہے تھے اور پست آواز میں قرآءت کر رہے تھے۔ آپ کا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، تو وہ بلند آواز میں قرآءت کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا تھا تم پست آواز میں قرآءت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اس ذات کو سنا رہا تھا جس کی بارگاہ میں، میں مناجات کر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! میں تمہارے پاس سے بھی گزرا تھا، اور تم بلند آواز میں قرآءت کر رہے تھے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سوئے ہوئے شخص کو جگانا چاہتا تھا، اور اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کو کچھ بلند کرو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی آواز کو کچھ پست کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 730»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1200).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله ثقات رجال مسلم غير محمد بن عبد الرحيم، فمن رجال البخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥عبد الله بن رباح الأنصاري، أبو خالد
Newعبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← عبد الله بن رباح الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يحيى بن إسحاق البجلي، أبو زكريا، أبو بكر
Newيحيى بن إسحاق البجلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحيم القرشي، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الرحيم القرشي ← يحيى بن إسحاق البجلي
ثقة حافظ أمين
👤←👥ابن خزيمة السلمي، أبو بكر
Newابن خزيمة السلمي ← محمد بن عبد الرحيم القرشي
ثقة حجة