صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
488. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن وصف محاسبة الله جل وعلا المؤمنين المخبتين من عباده في القيامة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اپنے عاجز بندوں سے محاسبہ کی کیفیت
حدیث نمبر: 7355
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَارَضَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النَّجْوَى؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَدْنُو الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ، فَيُنَادَى عَلَى رُؤُوسِ الأَشْهَادِ: هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ" .
سیدنا صفوان بن محرز مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، اسی دوران ایک شخص ان کے سامنے آیا اور بولا: اے سیدنا عبداللہ بن عمر! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «النَّجْوَىٰ» ”سرگوشی“ کے بارے میں کیا بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن مومن اپنے پروردگار کے قریب ہو گا، یہاں تک کہ وہ اسے پردے میں کر لے گا اور پھر اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائے گا۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم ان سے واقف ہو؟ وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں انہیں پہچانتا ہوں، یہاں تک کہ وہاں تک بات چلی جائے گی جو اللہ کو منظور ہو گا کہ وہاں تک جائے، پھر پروردگار فرمائے گا: میں نے دنیا میں تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کی تھی اور آج میں تمہارے لیے ان کی مغفرت کرتا ہوں۔ پھر اس شخص کو اس کی نیکیوں کا صحیفہ دیا جائے گا۔ لیکن جہاں تک کافر اور منافق شخص کا تعلق ہے، اسے تمام لوگوں کی موجودگی میں پکارا جائے گا (اور یہ کہا جائے گا، جس کا ذکر قرآن میں ہے): ﴿هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ [سورة هود: 18] ”یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کو جھٹلایا۔ خبردار! ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7355]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2441، 4685، 6070، 7514، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2768، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7355، 7356، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11178، 11802، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 183، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5537» «رقم طبعة با وزير 7311»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (604 و 605).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7355 in Urdu
صفوان بن محرز المازني ← عبد الله بن عمر العدوي