صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
569. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عن زيارة أهل الجنة معبودهم جل وعلا-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت کے اہل اپنے معبود اللہ تعالیٰ کی زیارت کریں گے
حدیث نمبر: 7438
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، قَالَ سَعِيدٌ: أَوَ فِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا، نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، فَيَزُورُونَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ، وَيَبْتَدِي لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَيُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ أَفْضَلُ مِنْهُمْ مَجْلِسًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟"، قُلْنَا: لا، قَالَ:" كَذَلِكَ لا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، وَلا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلا حَاصَرَهُ اللَّهُ مُحَاصَرَةً، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فُلانُ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، قَالَ: فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلائِكَةُ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، قَالَ: فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَيْءٌ وَلا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، قَالَ: فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ، فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ، فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ عَلَيْهِ بِأَحْسَنَ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، قَالَ: ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، فَتَلْقَانَا أَزْوَاجُنَا، فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلا بِحِبِّنَا، لَقَدْ جِئْتَ، وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ، وَيَحُقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَفْظُ الْخَبَرِ لِلْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ.
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: ان کی ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے دریافت کیا: جنت میں بازار ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے:
جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے حساب سے اس میں رہائش اختیار کریں گے۔ دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعے کے دن انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کے لیے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عکس ان کے سامنے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جنت کے ایک باغ میں ظہور کرے گا۔ ان کے سامنے نور کے منبر رکھے جائیں گے اور موتیوں کے منبر ہوں گے، یاقوت کے منبر ہوں گے، زبرجد کے منبر ہوں گے، سونے کے منبر ہوں گے، چاندی کے منبر ہوں گے۔ ان میں سب سے کم تر شخص، حالانکہ ان میں کوئی بھی شخص کم تر نہیں ہو گا، وہ بھی مشک کے ٹیلوں پر اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا۔ وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ کرسی پر بیٹھا شخص محفل میں بیٹھنے کے اعتبار سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! کیا تمہیں سورج کو دیکھنے اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں بھی کوئی الجھن نہیں پیش آئے گی۔ اس محفل میں، جو بھی شخص موجود ہو گا اللہ تعالیٰ اس سے براہ راست کلام کرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک شخص سے فرمائے گا: اے فلاں شخص تمہیں فلاں دن یاد ہے جب تم نے یہ یہ عمل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ دنیا میں کی گئی اس کی کسی خلاف ورزی کو یاد کرائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! کیا تو نے میری مغفرت نہیں کر دی، تو پروردگار فرمائے گا جی ہاں! میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے تم اس مقام پر پہنچے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر سے ایک بادل انہیں ڈھانپ لے گا اور ان پر خوشبو کی بارش نازل کرے گا۔ انہوں نے ایسی خوشبو بھی نہیں سونگھی ہو گی، پھر پروردگار فرمائے گا تم اس چیز کی طرف اٹھ کر جاؤ جو میں نے تمہارے لیے عزت افزائی تیار کی ہے اور جس چیز کی تمہیں خواہش ہے اسے تم حاصل کرو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم بازار میں آئیں گے جسے فرشتوں نے ڈھانپا ہوا ہو گا وہ ایسی چیز ہو گی جس کی مانند کوئی چیز آنکھوں نے نہیں دیکھی ہو گی اور کانوں نے نہیں سنی ہو گی اور کسی دل میں اس کا خیال نہیں آیا ہو گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو ہمارے لیے وہاں وہ چیزیں لائی جائیں گی جن کی ہمیں خواہش ہو گی۔ وہاں کوئی چیز فروخت نہیں ہو گی اور کوئی چیز خریدی نہیں جائے گی۔ اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر بلند مرتبے کا مالک ایک شخص آئے گا اور اس سے ملاقات کرے گا، جو کم مرتبے کا ہو گا حالانکہ ان میں کوئی بھی کم درجے کا نہیں ہو گا۔ کم مرتبے کا شخص اس کے جسم پر موجود لباس کو دیکھ کر اسے پسند کرے گا اور ان کی گفتگو ختم ہونے سے پہلے ہی اس سے زیادہ عمدہ لباس اس کے جسم پر آ چکا ہو گا اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہاں کوئی شخص کسی بھی حوالے سے غمگین نہیں ہو گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جائیں گے۔ ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی تو وہ یہ کہیں گی: آپ کو خوش آمدید جو ہمارے محبوب ہیں آپ تشریف لے آئے ہیں اب آپ کا حسن و جمال اور خوشبو پہلے سے زیادہ اچھی ہو گئی ہے جب آپ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو وہ کہیں گے: آج ہم نے اپنے عظیم پروردگار کی ہم نشینی اختیار کی تھی تو ہم اس بات کے حق دار تھے کہ ہم اس طرح کی صورت حال میں واپس آئیں جس میں ہم آئے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ حسن بن سفیان کے ہیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7438]
جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے حساب سے اس میں رہائش اختیار کریں گے۔ دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعے کے دن انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کے لیے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عکس ان کے سامنے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جنت کے ایک باغ میں ظہور کرے گا۔ ان کے سامنے نور کے منبر رکھے جائیں گے اور موتیوں کے منبر ہوں گے، یاقوت کے منبر ہوں گے، زبرجد کے منبر ہوں گے، سونے کے منبر ہوں گے، چاندی کے منبر ہوں گے۔ ان میں سب سے کم تر شخص، حالانکہ ان میں کوئی بھی شخص کم تر نہیں ہو گا، وہ بھی مشک کے ٹیلوں پر اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا۔ وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ کرسی پر بیٹھا شخص محفل میں بیٹھنے کے اعتبار سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! کیا تمہیں سورج کو دیکھنے اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں بھی کوئی الجھن نہیں پیش آئے گی۔ اس محفل میں، جو بھی شخص موجود ہو گا اللہ تعالیٰ اس سے براہ راست کلام کرے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک شخص سے فرمائے گا: اے فلاں شخص تمہیں فلاں دن یاد ہے جب تم نے یہ یہ عمل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ دنیا میں کی گئی اس کی کسی خلاف ورزی کو یاد کرائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! کیا تو نے میری مغفرت نہیں کر دی، تو پروردگار فرمائے گا جی ہاں! میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے تم اس مقام پر پہنچے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر سے ایک بادل انہیں ڈھانپ لے گا اور ان پر خوشبو کی بارش نازل کرے گا۔ انہوں نے ایسی خوشبو بھی نہیں سونگھی ہو گی، پھر پروردگار فرمائے گا تم اس چیز کی طرف اٹھ کر جاؤ جو میں نے تمہارے لیے عزت افزائی تیار کی ہے اور جس چیز کی تمہیں خواہش ہے اسے تم حاصل کرو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم بازار میں آئیں گے جسے فرشتوں نے ڈھانپا ہوا ہو گا وہ ایسی چیز ہو گی جس کی مانند کوئی چیز آنکھوں نے نہیں دیکھی ہو گی اور کانوں نے نہیں سنی ہو گی اور کسی دل میں اس کا خیال نہیں آیا ہو گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو ہمارے لیے وہاں وہ چیزیں لائی جائیں گی جن کی ہمیں خواہش ہو گی۔ وہاں کوئی چیز فروخت نہیں ہو گی اور کوئی چیز خریدی نہیں جائے گی۔ اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر بلند مرتبے کا مالک ایک شخص آئے گا اور اس سے ملاقات کرے گا، جو کم مرتبے کا ہو گا حالانکہ ان میں کوئی بھی کم درجے کا نہیں ہو گا۔ کم مرتبے کا شخص اس کے جسم پر موجود لباس کو دیکھ کر اسے پسند کرے گا اور ان کی گفتگو ختم ہونے سے پہلے ہی اس سے زیادہ عمدہ لباس اس کے جسم پر آ چکا ہو گا اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہاں کوئی شخص کسی بھی حوالے سے غمگین نہیں ہو گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جائیں گے۔ ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی تو وہ یہ کہیں گی: آپ کو خوش آمدید جو ہمارے محبوب ہیں آپ تشریف لے آئے ہیں اب آپ کا حسن و جمال اور خوشبو پہلے سے زیادہ اچھی ہو گئی ہے جب آپ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو وہ کہیں گے: آج ہم نے اپنے عظیم پروردگار کی ہم نشینی اختیار کی تھی تو ہم اس بات کے حق دار تھے کہ ہم اس طرح کی صورت حال میں واپس آئیں جس میں ہم آئے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ حسن بن سفیان کے ہیں۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7438]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7395»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ظلال الجنة» (585 - 587).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي