🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
569. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عن زيارة أهل الجنة معبودهم جل وعلا-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت کے اہل اپنے معبود اللہ تعالیٰ کی زیارت کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7438
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، قَالَ سَعِيدٌ: أَوَ فِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا، نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، فَيَزُورُونَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ، وَيَبْتَدِي لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَيُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ أَفْضَلُ مِنْهُمْ مَجْلِسًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟"، قُلْنَا: لا، قَالَ:" كَذَلِكَ لا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، وَلا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلا حَاصَرَهُ اللَّهُ مُحَاصَرَةً، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فُلانُ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، قَالَ: فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلائِكَةُ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، قَالَ: فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَيْءٌ وَلا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، قَالَ: فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ، فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ، فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ عَلَيْهِ بِأَحْسَنَ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، قَالَ: ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، فَتَلْقَانَا أَزْوَاجُنَا، فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلا بِحِبِّنَا، لَقَدْ جِئْتَ، وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ، وَيَحُقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَفْظُ الْخَبَرِ لِلْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے دریافت کیا: کیا جنت میں بازار ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے: جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے فضائل کے حساب سے اس میں رہائش اختیار کریں گے۔ دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعے کے دن انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کے لیے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عرش ان کے سامنے ظاہر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں جلوہ افروز ہو گا، ان کے سامنے نور کے منبر رکھے جائیں گے اور موتیوں کے منبر ہوں گے، یاقوت کے منبر ہوں گے، زبرجد کے منبر ہوں گے، سونے کے منبر ہوں گے اور چاندی کے منبر ہوں گے۔ ان میں سب سے کم تر شخص، حالانکہ ان میں کوئی بھی شخص کم تر نہیں ہو گا، وہ بھی مشک کے ٹیلوں پر اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا۔ وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ محفل میں بیٹھنے کے اعتبار سے ان سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! کیا تمہیں سورج کو دیکھنے اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی شک و شبہ ہوتا ہے؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں بھی کوئی الجھن پیش نہیں آئے گی۔ اس محفل میں جو بھی شخص موجود ہو گا اللہ تعالیٰ اس سے براہ راست کلام فرمائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک شخص سے فرمائے گا: اے فلاں! کیا تمہیں فلاں دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا عمل کیا تھا؟ تو اللہ تعالیٰ دنیا میں کی گئی اس کی بعض لغزشوں کو یاد دلائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! کیا تو نے میری مغفرت نہیں فرما دی؟ تو پروردگار فرمائے گا: جی ہاں! میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تم اس مقام پر پہنچے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر سے ایک بادل انہیں ڈھانپ لے گا اور ان پر ایسی خوشبو کی بارش برسائے گا جس کی مانند انہوں نے کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی ہو گی، پھر پروردگار فرمائے گا: تم اس چیز کی طرف اٹھ کر جاؤ جو میں نے تمہارے لیے بطورِ اعزاز تیار کی ہے اور جس چیز کی تمہیں خواہش ہے اسے تم حاصل کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم ایک بازار میں آئیں گے جسے فرشتوں نے ڈھانپا ہوا ہو گا، وہ ایسی چیز ہو گی جس کی مانند نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھی ہو گی، نہ کانوں نے سنی ہو گی اور نہ ہی کسی انسانی دل میں اس کا خیال گزرا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس ہمارے لیے وہاں وہ تمام چیزیں لائی جائیں گی جن کی ہمیں خواہش ہو گی۔ وہاں کوئی چیز فروخت نہیں ہو گی اور نہ کوئی چیز خریدی جائے گی۔ اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر بلند مرتبے والا ایک شخص آئے گا اور وہ اس شخص سے ملے گا جو اس سے کم مرتبے کا ہو گا، حالانکہ ان میں کوئی بھی کم درجے کا نہیں ہو گا، وہ شخص اس کے جسم پر موجود لباس کو دیکھ کر اسے پسند کرے گا تو ابھی ان کی گفتگو ختم نہیں ہو گی کہ اسے محسوس ہو گا کہ اس کے اپنے جسم پر اس سے بھی زیادہ عمدہ لباس آ چکا ہے، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہاں کوئی شخص کسی بھی حوالے سے غمگین نہیں ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جائیں گے تو ہماری بیویاں ہمیں یہ کہہ کر ملیں گی: آپ کو خوش آمدید! اے ہمارے محبوب، آپ تشریف لے آئے ہیں، اب آپ کا حسن و جمال اور خوشبو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے جیسا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو وہ کہیں گے: آج ہم نے اپنے ربِ جبار کی ہم نشینی اختیار کی تھی، اس لیے ہم اس بات کے حق دار تھے کہ اسی صورتِ حال میں واپس آئیں جس میں ہم آئے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ حسن بن سفیان کے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7438]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7438، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2549، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4336» «رقم طبعة با وزير 7395»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ظلال الجنة» (585 - 587).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥حسان بن عطية المحاربي، أبو بكر
Newحسان بن عطية المحاربي ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← حسان بن عطية المحاربي
ثقة مأمون
👤←👥عبد الحميد بن حبيب الشامي، أبو سعيد
Newعبد الحميد بن حبيب الشامي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
صدوق ربما أخطأ
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← عبد الحميد بن حبيب الشامي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
👤←👥عبد الله بن محمد المقدسي، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد المقدسي ← هشام بن عمار السلمي
ثقة
👤←👥عمر بن سنان المنبجي، أبو بكر
Newعمر بن سنان المنبجي ← عبد الله بن محمد المقدسي
ثقة
👤←👥إسحاق بن إبراهيم البستي، أبو محمد
Newإسحاق بن إبراهيم البستي ← عمر بن سنان المنبجي
ثقة
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← إسحاق بن إبراهيم البستي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 7438 in Urdu