علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
162. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن فاتحة الكتاب من أفضل القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ فاتحہ الکتاب قرآن کی افضل سورتوں میں سے ہے
حدیث نمبر: 774
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ آدَمَ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ، فَمَشَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى جَانِبِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ؟"، قَالَ: فَتَلا عَلَيْهِ" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ"، أَرَادَ بِهِ: بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ لَكَ، لا أَنَّ بَعْضَ الْقُرْآنِ يَكُونُ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ، لأَنَّ كَلامَ اللَّهِ يَسْتَحِيلُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ تَفَاوُتُ التَّفَاضُلِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے۔ آپ سواری سے نیچے اترے آپ کے صاحب میں سے ایک صحاب آپ کے پیچھے کی طرف گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ تلاوت کی۔ ”الحمدلله رب العلمين“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”کیا میں تمہیں قرآن کے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے: (جسے پڑھنا) تمہارے لیے افضل ہے، ایسا نہیں ہے، قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو کیونکہاللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں یہ بات ناممکن ہے، اس میں ”تفاضل“ ہو (یعنی کسی ایک حصے کو دوسرے پر فضیلت ہو) [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 771»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 216 - 217).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أحمد بن آدم ذكرد المؤلف في «الثقات» 8/ 30 فقال: أحمد بن آدم الجرجاني، كنيه أبو عبد الله يعرف بغندر يروي، عن أبي عاصم، ويزيد بن هارون، والبصريين، مات سنة خمس ومئتين أو قبلها أو بعدها بقليل، وقال السهمي في «تاريخ جرجان» ص 69: أحمد بن آدم غندر أبو جعفر الخلنجي صاحب حديث مكثر ثقة وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 774 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري