صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
190. باب قراءة القرآن - ذكر خبر قد يوهم غير طلبة العلم من مظانه أنه مضاد للخبرين الأولين اللذين ذكرناهما
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کے طالبوں کو جو اس کے مآخذ سے واقف نہیں، یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ پہلی دو خبروں کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَخَالِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْحُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ" وَكَانَ الْحَسَنُ بِهِ يَأْخُذُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صلي الله عَلَيْهِ وسلم:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ" أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ، لأَنَّ الذِّكْرَ عَلَى الطَّهَارَةِ أَفْضَلُ، لا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُهُ لِنَفْيِ جَوَازِهِ.
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا۔ جب آپ نے وضو مکمل کر لیا، تو (سلام کا جواب دے کر) عذر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) حسن بصری اس روایت کے مطابق فتوی دیتے تھے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ”مجھے ناپسند ہوا کہ میں بے وضو حالت میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کروں“ اس سے مراد فضیلت (کے حصول کا ارادہ) ہے کیونکہ باوضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے۔ ایسا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ناجائز ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 803]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ”مجھے ناپسند ہوا کہ میں بے وضو حالت میںاللہ تعالیٰ کا ذکر کروں“ اس سے مراد فضیلت (کے حصول کا ارادہ) ہے کیونکہ باوضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے۔ ایسا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ناجائز ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 800»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (834)، «صحيح أبي داود» (13).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الحضين، فمى رجال مسلم، وعبد الأعلى- وهو ابن عبد الأعلى البصري السامي- قد سمع من سعيد قبل اختلاطه، والحسن هو البصري، وانما تضر عنعنتة ويعل الحديث بها إذا روى عن الصحابة، أما عن التابعين، فلا تضر، وقد علمت ذلك بالتتبع، وسعيد هو ابن أبي عروبة.
الرواة الحديث:
حضين بن المنذر الرقاشي ← المهاجر بن قنفذ القرشي