صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
193. باب الأذكار - ذكر العلة التي من أجلها فعل صلى الله عليه وسلم ما وصفناه
اذکار کا بیان - ذکر اس علت (حکمت) کا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عمل کیا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُرَشِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى طَهَارَةٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ كَرَاهِيَةَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِكْرَ اللَّهِ إِلا عَلَى طَهَارَةٍ، كَانَ ذَلِكَ لأَنَّ الذِّكْرَ عَلَى طَهَارَةٍ أَفْضَلُ، لا أَنَّ ذِكْرَ الْمَرْءِ رَبَّهُ عَلَى غَيْرِ الطَّهَارَةِ غَيْرُ جَائِزٍ، لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى أَحْيَانِهِ.
سیدنا مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پیشاب کر رہے تھے انہوں نے سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب نہیں دیا، پہلے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے عذر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بے وضو حالت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ناپسند کرنا اس وجہ سے تھا کہ باوضو حالت میں ذکر کرنا افضل ہے، ایسا نہیں ہے کہ آدمی کا بے وضو حالت میں اپنے پروردگار کا ذکر کرنا جائز ہی نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 206، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 803، 806، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 596، 6080، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 38، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 34، وأبو داود فى (سننه) برقم: 17، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2683، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 350، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19339» «رقم طبعة با وزير 803»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (834) «صحيح أبي داود» (13).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح عن شرط مسلم، وقد تقدم برقم (803).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 806 in Urdu
حضين بن المنذر الرقاشي ← المهاجر بن قنفذ القرشي