صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
215. باب الأذكار - ذكر الأمر بالتسبيح عدد خلق الله وزنة عرشه ومداد كلماته
اذکار کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اللہ کی مخلوق کی تعداد، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر تسبیح کی جائے
حدیث نمبر: 828
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالَ:" مَا زِلْتِ قَاعِدَةً؟"، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " أَلا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِهِنَّ عَدَلَتْهُنَّ، أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِهِنَّ وَزَنَتْهُنَّ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ" .
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی تھی۔ پھر آپ اپنے کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے، پھر دوپہر کے وقت آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس وقت سے اب تک بیٹھی ہوئی ہو؟“ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں اگر (انہیں تمہارے پڑھے ہوئے کلمات) کے ساتھ ملایا جائے تو وہ زیادہ ہوں اور اگر ان کا وزن ان کے وزن کے ساتھ ملایا جائے تو وہ زیادہ وزنی ہوں (وہ کلمات یہ ہیں:) «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» ”اللہ تعالیٰ کی میں اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ہو۔“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں، جو اس کے عرش کے وزن جتنی ہو۔“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے، «سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَا نَفْسِهِ» ”(میں اللہ تعالیٰ کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کی ذات کی رضامندی کے مطابق ہو)“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”میں اس کی اتنی پاکی بیان کرتا ہوں جو اس کے کلمات کی سیاہی جتنی ہو)“ یہ تین مرتبہ پڑھنا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2726، 2726، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 753، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 828، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1351، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1277، 9919، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3555، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3808، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27400» «رقم طبعة با وزير 825»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1347): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبد الرحمن، فمن رجال مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 828 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← جويرية بنت الحارث الخزاعية