🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. ذكر وصف العلماء الذين لهم الفضل الذي ذكرنا قبل-
- ان علما کی صفات کا ذکر جنہیں وہ فضیلت حاصل ہے جس کا پہلے ذکر کیا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ فِي حَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : أَمَا جِئْتَ لِحَاجَةٍ، أَمَا جِئْتَ لِتِجَارَةٍ، أَمَا جِئْتَ إِلا لِهَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا، سَلَكَ الِلَّهِ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَالْمَلائِكَةُ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ، وَمَنْ فِي الأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ، كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلا دِرْهُمَا، وَأَوْرَثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ الْعُلَمَاءَ الَّذِينَ لَهُمُ الْفَضْلُ الَّذِي ذَكَرْنَا، هُمُ الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ عِلْمَ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دُونَ غَيْرِهِ مِنْ سَائِرِ الْعُلُومِ، أَلا تَرَاهُ يَقُولُ:" الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ" وَالأَنْبِيَاءُ لَمْ يُوَرِّثُوا إِلا الْعِلْمَ، وَعِلْمُ نَبِيِّنَا صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّتُهُ، فَمَنْ تَعَرَّى عَنْ مَعْرِفَتِهَا لَمْ يَكُنْ مِنْ وَرَثَةِ الأَنْبِيَاءِ.
کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں: میں مسجد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص آیا اور بولا: اے سیدنا ابودرداء! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ ایک حدیث کے بارے میں (دریافت کرنے کے لئے) مجھے یہ پتہ چلا ہے، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم کسی اور کام کے سلسلے میں نہیں آئے؟ کیا تم تجارت کے لئے نہیں آئے؟ کیا تم صرف اس حدیث کے لئے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص علم کے حصول کے راستے پر چلتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے، اس شخص کو جنت کے راستے پر چلاتا ہے، اور طالب علم سے خوش ہو کر، فرشتے اپنے پر اس پر بچھا دیتے ہیں۔ بے شک عالم شخص کے لئے آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز، یہاں تک کہ پانی میں موجود مچھلیاں، بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں اور عالم شخص کو عبادت گزار شخص پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہوتی۔ بے شک علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء، وراثت میں دینار یا درہم نہیں چھوڑتے ہیں۔ وہ وراثت میں علم چھوڑتے ہیں، جو شخص اسے حاصل کر لیتا ہے۔ وہ بڑا حصہ حاصل کرتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ہم نے جس فضیلت کا ذکر کیا ہے یہ ان علماء کو حاصل ہو گی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی تعلیم دیتے ہیں، انہیں حاصل نہیں ہو گی جو دوسرے علوم سکھاتے ہیں۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: علماء، انبیاء کے وارث ہیں۔ تو انبیاء وراثت میں صرف علم چھوڑتے ہیں اور ہمارے نبی کا علم آپ کی سنت ہے۔ جو شخص اس کی معرفت سے بے بہرہ ہو گا وہ انبیاء کا وارث نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 88]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 53).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن، إسناده ضعيف لضعف داود بن جميل - ويقال: الوليد بن جميل - وكثير بن قيس - ويقال: قيس بن كثير- والأول أكثر.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥كثير بن قيس الشامي
Newكثير بن قيس الشامي ← عويمر بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥داود بن جميل
Newداود بن جميل ← كثير بن قيس الشامي
ضعيف الحديث
👤←👥عاصم بن رجاء الكندي
Newعاصم بن رجاء الكندي ← داود بن جميل
مقبول
👤←👥عبد الله بن داود الخريبي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن داود الخريبي ← عاصم بن رجاء الكندي
ثقة
👤←👥عبد الأعلى بن حماد الباهلي، أبو يحيى
Newعبد الأعلى بن حماد الباهلي ← عبد الله بن داود الخريبي
ثقة
👤←👥محمد بن إسحاق السراج، أبو العباس
Newمحمد بن إسحاق السراج ← عبد الأعلى بن حماد الباهلي
حافظ ثقة