صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
319. باب الأدعية - ذكر الأمر باكتناز سؤال المرء ربه جل وعلا الثبات على الأمر والعزيمة على الرشد عند اكتناز الناس الدنانير والدراهم
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی کو اپنے رب جل وعلا سے امر پر ثابت قدمی اور رشد کی عزیمت مانگنی چاہیے جب لوگ دینار اور درہم جمع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ ، بِصَيْدَا، وَلَمْ يَشْرَبِ الْمَاءَ فِي الدُّنْيَا ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَيَتِّخَذُ كُلَّ لَيْلَةٍ حَسْوًا فَيَحْسُوهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، فَنَزَلْنَا مَرْجَ الصُّفَّرِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسُّفْرَةِ نَعْبَثْ بِهَا، فَكَانَ الْقَوْمُ يَحْفَظُونَهَا مِنْهُ، فَقَالَ: يَا بَنِي أَخِي، لا تَحْفَظُوهَا عَنِّي، وَلَكِنِ احْفَظُوا مِنِّي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اكْتَنَزَ النَّاسُ الدَّنَانِيرَ وَالدَّرَاهِمَ، فَاكْتَنِزُوا هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ" .
ابوعبیداللہ مسلم بیان کرتے ہیں: میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا ہم نے ”مرج الصفر“ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ انہوں نے فرمایا: ہمارا زادراہ لے کر آؤ تاکہ ہم اسے استعمال کریں۔ حاضرین ان سے اس چیز کو محفوظ کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے تم مجھ سے اس چیز کو محفوظ نہ کرو بلکہ مجھ سے اس چیز کو محفوظ کر لو، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) جس وقت لوگ دینار اور درہموں کا خزانہ بنا رہے ہوں، تو تم ان کلمات کا خزانہ اکٹھا کرو۔ ”اے اللہ! میں دین میں ثابت قدمی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور ہدایت میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تیری نعمت کے شکر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری اچھی طریقے سے عبادت کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور میں ہر اس بھلائی کا تجھ سے سوال کرتا ہوں، جسے تو جانتا ہے، اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور میں تجھ سے اس چیز کی مغفرت طلب کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے۔ بے شک تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 935]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 931»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (3228).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، سويد بن عبد العزيز: لين الحديث، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
مسلم بن مشكم الخزاعي ← شداد بن أوس الأنصاري