صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
374. باب الأدعية - ذكر إباحة دعاء المرء لأخيه بكثرة المال والولد
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے کثرت سے مال اور اولاد کی دعا کرے
حدیث نمبر: 990
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ: " أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ". فَصَلَّى صَلاةً غَيْرَ مَكْتُوبَةٍ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَدَعَا لأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ:" مَا هِيَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟"، قَالَتْ: خَادِمُكَ أَنَسٌ. فَدَعَا لِي بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالا وَوَلَدًا، وَبَارِكْ لَهُ" . قَالَ: فَإِنِّي مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ وَلَدًا، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهَا دَفَنَتْ مِنْ صُلْبِي إِلَى مَقْدِمِ الْحَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے وہ آپ کی خدمت میں کھجور اور گھی لے کر آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھی کو واپس اسی برتن میں ڈال دو اور اپنی کھجوروں کو واپس اسی برتن میں ڈال دو، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفل نماز ادا کی۔ آپ کی اقتداء میں ہم نے بھی نماز ادا کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر کے افراد کو بلایا، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک درخواست ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! وہ کیا انہوں نے عرض کی: آپ کا خادم انس (آپ اس کے لیے دعا کر دیں)۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا کی۔ (آپ نے دعا کی:) ”اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا کر اور اس کے لئے ان میں برکت رکھ دے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں میں اولاد کے اعتبار سے کثرت والا ہوں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہے، حجاج کے بصرہ کا گورنر بننے تک میری اولاد اور (اولاد کی اولاد میں سے) ایک سو بیس لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 986»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مشكلة الفقر» (12): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري