صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
381. باب الأدعية - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المرء إذا كان في حالة ليس له سؤال الرب جل وعلا الحلول من تلك الحالة لأن هذا كلام محال
دعاؤں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اگر آدمی کسی ایسی حالت میں ہو تو اسے اپنے رب جل وعلا سے اس حالت کے حل کی دعا نہیں مانگنی چاہیے، کیونکہ یہ بات ناممکن ہے
حدیث نمبر: 997
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً، وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ الأُخْرَى، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ"، ثُمَّ قَرَأَ: الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ سورة البقرة آية 268 .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک شیطان کا ایک اثر ہوتا ہے اور فرشتے کا ایک اثر ہوتا ہے؛ شیطان کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ برائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتے کا اثر یہ ہوتا ہے، وہ بھلائی کی طرف واپس لے کر جاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے، تو جو شخص اس صورت حال کو پائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جو شخص دوسری صورت حال کو پائے، تو وہ شیطان سے پناہ مانگے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ﴾ [سورة البقرة: 268] ”شیطان تمہارے ساتھ غربت کا وعدہ کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 997، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10985، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2988، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4999، والبزار فى (مسنده) برقم: 2027» «رقم طبعة با وزير 993»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (1/ 27 / 74 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عطاء بن السائب: اختلط، وأبو الأحوص- وهو سلامة بن سليم- سمع منه بعد الاختلاط، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 997 in Urdu
مرة الطيب ← عبد الله بن مسعود