🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. الْوِتْرُ حَقٌّ
وتر کی نماز حق ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1150
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا طاهر بن عمرو بن الرَّبيع بن طارق. وأخبرنا أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَندي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر، حدثنا طاهر بن عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدثنا أبي، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عِرَاك بن مالك، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تُوتِروا بثلاثٍ تَشبَّهوا بصلاة المغرب، ولكن أوتِرُوا بخمسٍ، أو بسبعٍ، أو بتسعٍ، أو بإحدى عشْرةَ ركعة، أو أكثرَ من ذلك" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف تین رکعت وتر نہ پڑھا کرو کہ اس سے (وتر کی) مشابہت نمازِ مغرب سے ہو جائے، بلکہ پانچ، سات، نو، گیارہ رکعت یا اس سے بھی زیادہ وتر پڑھا کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد اختلف على عراك بن ملك في رفعه ووقفه، لكن قال ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 14: رجاله كلهم ثقات، ولا يضر وقف من أوقفه» [ترقيم الرساله 1150] [ترقيم الشركة 1141]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1150 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وقد اختلف على عراك بن ملك في رفعه ووقفه، لكن قال ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 14: رجاله كلهم ثقات، ولا يضر وقف من أوقفه. الليث: هو ابن سعد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ عراک بن مالک پر اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے، مگر حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" (14/2) میں فرمایا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور موقوف ہونا صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
وأخرجه البيهقي 3/ 31 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (31/3) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الخطيب في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 2/ 178، والبيهقي 3/ 31 من طريق أبي العباس محمد بن يعقوب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے خطیب بغدادی اور بیہقی نے ابوالعباس محمد بن یعقوب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن المنذر في "الأوسط" (2643) عن طاهر بن عمرو بن الربيع، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے "الاوسط" (2643) میں طاہر بن عمرو کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 1/ 292، والبيهقي 3/ 31 من طريق جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن أبي هريرة قوله، ولم يرفعه.
⚠️ سندی اختلاف: امام طحاوی اور بیہقی نے اسے جعفر بن ربیعہ عن عراک کے طریق سے حضرت ابوہریرہ پر "موقوف" (ان کا اپنا قول) روایت کیا ہے، مرفوع نہیں۔
وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت بھی دیکھیں۔
قوله في هذا الحديث: "لا توتروا بثلاث" يعارضه في الظاهر حديث أبي أيوب السالف قريبًا: "الوتر حق، فمن شاء فليوتر بخمس، ومن شاء فليوتر بثلاث، ومن شاء فليوتر بواحدة"، وحديث عائشة الآتي قريبًا: كان رسول الله ﷺ يوتر بثلاث لا يقعد إلّا في آخرهن.
📝 (توضیح): اس حدیث میں "تین رکعت وتر نہ پڑھو" بظاہر حضرت ابوایوب کی سابقہ حدیث (نمبر 1141) اور حضرت عائشہ کی اگلی حدیث کے خلاف لگتی ہے جس میں تین رکعت کا ذکر ہے۔
والجواب على هذا الإشكال أن الوتر يُطلَق أحيانًا ويراد به صلاة الليل كلها مع الوتر المعروف المتبادر، فإذا قال: أوتر بخمس، يعني أنَّ صلاة الليل ركعتان بعدها الوتر ثلاث ركعات، فالنهي عن الوتر بثلاث في هذا الحديث يعني أن لا تقتصر عليها دون أن يكون قبلها صلاة ركعتين على الأقل، لذلك قال: أوتروا بخمس، يعني: ركعتين ثم ثلاثًا، ثم قال: أو بسبع، يعني: أربع ركعات ثم ثلاثًا، وهكذا. وهذا التأويل قاله إسحاق بن راهويه - فيما نقله عنه الترمذي بإثر حديث أم سلمة (457) في قولها: كان النبي ﷺ يوتر بثلاث عشرة، فلما كبر أو ضعف أوتر بسبع - قال إسحاق: معنى ما روي أنَّ النبي ﷺ كان يوتر بثلاث عشرة: أنه كان يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة مع الوتر، فنسبت صلاة الليل إلى الوتر. انتهى، لذلك قال الطحاوي 1/ 292 بإثر حديث أبي هريرة هذا: فقد يحتمل أن يكون كره إفراد الوتر حتى يكون منه شفع.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اس کا جواب یہ ہے کہ کبھی "وتر" سے مراد پوری نمازِ تہجد لی جاتی ہے۔ "تین رکعت سے منع" کا مطلب یہ ہے کہ صرف تین رکعت نہ پڑھو (جو مغرب کے مشابہ ہو جائیں) بلکہ اس سے پہلے کم از کم دو رکعت نفل ضرور پڑھو۔ امام اسحاق بن راہویہ اور امام طحاوی نے بھی یہی تاویل کی ہے کہ یہاں وتر کو تنہا (بغیر شفع کے) پڑھنے کی کراہت مراد ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1150 in Urdu