🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. الْوِتْرُ حَقٌّ
وتر کی نماز حق ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1158
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أبو عمر، أخبرنا هَمَّام، حدثنا هشام بن عُروة، حدثني أبي، أنَّ عائشة حدثته: أنَّ رسول الله ﷺ كان يُوتِر بخَمْس رَكَعاتٍ، ولا يَجلِسُ إلّا في الخامسة، ولا يُسلِّم إلا في الخامسة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1145 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پانچویں رکعت میں بیٹھتے تھے اور صرف پانچویں ہی میں سلام پھیرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الوتر/حدیث: 1158]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، ومحمد بن أيوب: هو ابن يحيى بن الضُّريس، وأبو عمر: هو الحَوضي، واسمه حفص بن عمر بن الحارث بن سخبرة، وهمام: هو ابن يحيى بن دينار العوذي-» [ترقيم الرساله 1158] [ترقيم الشركة 1149] [ترقيم العلميه 1145]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1158 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو بكر بن إسحاق: اسمه أحمد، ومحمد بن أيوب: هو ابن يحيى بن الضُّريس، وأبو عمر: هو الحَوضي، واسمه حفص بن عمر بن الحارث بن سخبرة، وهمام: هو ابن يحيى بن دينار العوذي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوبکر بن اسحاق، محمد بن ایوب اور ہمام بن یحییٰ اس کے ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (24921) عن عفان عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد. ولفظه: أنَّ رسول الله ﷺ كان يرقد، فإذا استيقظ تسوّك ثم توضأ، ثم صلى ثمان ركعات يجلس في كل ركعتين، فيسلم، ثم يوتر بخمس ركعات لا يجلس إلّا في الحاجة، ولا يسلِّم إلّا في الخامسة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (24921/41) نے عفان عن ہمام کی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ آٹھ رکعت پڑھتے (دو دو کر کے) پھر پانچ رکعت وتر پڑھتے اور صرف پانچویں کے آخر میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24239) و (24357) و 42/ (25286) و (25702) و 43/ (25936) ¤ ¤ و (26358)، ومسلم (737) (123)، وأبو داود (1338)، والترمذي (459)، والنسائي (420) و (434) و (1411) و (1424)، وابن حبان (2437 - 2440) من طرق عن هشام بن عروة، به. زاد بعضهم في أوله: كان يصلى من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر بخمس … إلى آخره. وزاد الترمذي في آخره: فإذا أذَّن المؤذن قام فصلى ركعتين خفيفتين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (737/123)، ابوداؤد، ترمذی اور ابن حبان نے ہشام بن عروہ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے آخر میں فجر کی دو سنتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔
وأخرج أحمد 43/ (26358)، وأبو داود (1359) من طريق محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة بركعتين بعد الفجر، قبل الصبح إحدى عشرة ركعة من الليل، ست منهن مثنى مثنى، ويوتر بخمس لا يقعد فيهن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور ابوداؤد (1359) نے محمد بن جعفر عن عروہ کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ رات کی 11 رکعتیں پڑھتے جن میں 5 رکعت وتر (مسلسل) ہوتے۔
قال الترمذي: وقد رأى بعض أهل العلم من أصحاب النبي ﷺ وغيرهم الوتر بخمس، وقالوا: لا يجلس في شيء منهن إلّا في آخرهن.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی کے مطابق بعض صحابہ کا یہی مسلک تھا کہ پانچ رکعت وتر میں صرف آخر میں بیٹھا جائے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1158 in Urdu