🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ : الْجِهَادِ
کتاب الجہاد۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2408
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشَاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحُسين بن واقِد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ عبد الرحمن بن عوف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ (1) ونحن مشركون، فلما آمنّا صِرْنا أذلةً! فقال:"إني أُمرتُ بالعفو، فلا تُقاتِلوا القومَ"، فلما حَوَّله إلى المدينة أمرَهُ بالقتال، فكَفُّوا، فأنزل الله ﵎: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2377 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو ہم بڑی عزت و وقار میں تھے، لیکن جب سے ہم ایمان لائے ہیں، ہم (ظاہری طور پر) کمزور ہو گئے ہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے درگزر اور معاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم ابھی ان لوگوں سے قتال نہ کرو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ منتقل فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتال کا حکم دیا گیا، لیکن وہ (کچھ لوگ قتال سے) رک گئے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے (یوں) ڈرنے لگا (جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے)۔ [سورة النساء: 77]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2408]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع. والحسين بن واقد قوي الحديث.» [ترقيم الرساله 2408] [ترقيم الشركة 2390] [ترقيم العلميه 2377]

الحكم على الحديث: حديث قوي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2408 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز): عزوة، بالعين المهملة ثم الزاي ثم واو بعدها تاء مربوطة، ويمكن حملها على معنى: كنا في نَسَب من قومنا يجعلنا أعزةً.
📝 لغوی تشریح: نسخہ (ز) میں "عزوة" ہے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے قبیلے کے ایسے نسب میں سے تھے جو ہمیں معزز (اعزہ) بناتا تھا۔
(2) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع. والحسين بن واقد قوي الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ ایک "قوی حدیث" ہے اور سند "حسن" ہے؛ حسین بن واقد قوی راوی ہیں۔
وأخرجه النسائي (4279) و (11047) عن محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، عن أبيه، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی (4279) نے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيتكرر برقم (3239)، لكن شيخ السيّاري هناك إبراهيم بن هلال، بدل محمد بن موسى.
📝 نوٹ / توضیح: یہ دوبارہ رقم (3239) پر آئے گی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2408 in Urdu