المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. الْجَنَّةُ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ
جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
حدیث نمبر: 2419
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا هشام بن علي السَّدُوسي، أنَّ موسى بن إسماعيل حدَّثهم، قال: حدثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمران الجَوْني، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، أنه قال وهو مُصافُّ العَدوِّ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ الجنةَ تحت ظِلال السُّيوفِ". قال شابٌّ رَثُّ الهيئة: أنت سمعتَ هذا من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، فكَسَر جَفْنَ سيفه معه، ثم قال لأصحابه: السلامُ عليكم، ثم دخل في القتال (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2388 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2388 - على شرط مسلم
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دشمن کے سامنے صف بستہ حالت میں فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔“ ایک شکستہ حال نوجوان نے پوچھا: ”کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں“، تو اس نوجوان نے اپنی تلوار کا نیام توڑ ڈالا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم پر سلام ہو“، اور پھر وہ دشمن سے قتال میں کود پڑا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2419]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي. أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب.» [ترقيم الرساله 2419] [ترقيم الشركة 2401] [ترقيم العلميه 2388]
الحكم على الحديث: إسناده جيد
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2419 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي. أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب.
⚖️ درجۂ حدیث: جعفر بن سلیمان الضبعی کی وجہ سے سند "جید" (بہتر) ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19538) و (19680)، ومسلم (1902)، والترمذي (1659)، وابن حبان (4617) من طرق عن جعفر بن سليمان، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت صحیح مسلم (1902) اور دیگر کتب میں موجود ہے۔
والمرفوع منه صحيح لغيره، فله شاهد من حديث عبد الله بن أبي أوفى سيأتي برقم (2444)، وهو في "الصحيحين".
🧩 متابعات و شواہد: اس کا مرفوع حصہ "صحیح لغیرہ" ہے؛ ابن ابی اوفی کی روایت (رقم 2444) جو صحیحین میں ہے، اس کی شاہد ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2419 in Urdu