🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ السَّكِينَةِ .
آیتِ سکینہ کے نزول کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2581
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحارث بن حَصِيرة، حدثنا القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال: قال ابن مسعودٍ: كنتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فولَّى عنه الناس وبقيتُ معه في ثمانين رجلًا من المهاجرين والأنصار، فكُنا على أقدامِنا نحوًا من ثمانين قدمًا ولم نُولِّهم الدُّبُرَ، وهم الذين أنزل الله عليهم السكينةَ، قال: ورسول الله ﷺ على بغلته يمضي قُدُمًا، فحادَت بغلته، فمال عن السّرِج، فشَدَّ نحوه، فقلتُ: ارتفع رفعَكَ الله، قال:"ناوِلْني كفًّا من ترابٍ" فناولتُه، فضرب به وجوهَهم، فامتلأ أعينُهم ترابًا، قال:"أين المهاجرون والأنصار؟" قلت: هم هنا، قال:"اهتِفْ بهم" فَهَتَفتُ بهم، فجاؤوا وسيوفُهم في أيمانهم كأنها الشُّهُب، وولَّى المشركون أدبارَهم (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2549 - الحارث وعبد الله ذوا مناكير هذا منها ثم فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے پیچھے ہٹ گئے لیکن میں مہاجرین و انصار کے اسی (80) آدمیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت قدم رہا، ہم اپنے قدموں پر اسی (80) قدم کے فاصلے پر جمے رہے اور ہم نے پیٹھ نہیں پھیری، یہی وہ لوگ تھے جن پر اللہ نے سکینہ نازل فرمائی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خچر پر سوار آگے بڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر بدکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زین سے ایک طرف جھک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھلے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ آپ کا مرتبہ بلند رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک مٹھی مٹی پکڑا دو، میں نے مٹی پکڑائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان (مشرکین) کے چہروں پر ماری جس سے ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟ میں نے کہا: وہ یہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آواز دو، میں نے انہیں پکارا تو وہ اپنی تلواریں دائیں ہاتھوں میں لیے ہوئے اس طرح لپکے جیسے وہ ستارے (شہابِ ثاقب) ہوں، اور مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2581]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالسماع، ثم هو متابع. وهو في السيرة النبوية لابن هشام 1/ 632.» [ترقيم الرساله 2581] [ترقيم الشركة 2564] [ترقيم العلميه 2549]

الحكم على الحديث: خبر صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2581 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالسماع، ثم هو متابع. وهو في السيرة النبوية لابن هشام 1/ 632.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت صحیح ہے اور اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے کیونکہ انہوں نے سماع کی تصریح کی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: سیرت ابن ہشام (1/ 632)۔
وأخرجه القاضي أبو العباس البرتي في "مسند عبد الرحمن بن عوف" (25)، والبزار (1016)، والطبراني في "تاريخه" 2/ 452، وفي "تهذيب الآثار" في القسم المفرد بتحقيق علي رضا (1021) من طرق عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے قاضی برتی، بزار اور طبرانی نے محمد بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (1015) من طريق إبراهيم بن سعد، عن أبيه، به. وإسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن سعد عن ابیہ کی یہ سند "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: مسند بزار (1015)۔
وظاهر ما في هذه الرواية من تسمية أُميّة بن خلف لعبد الرحمن بن عوف بعبد الإله، يخالف ما سيأتي برقم (5419) عن عبد الرحمن بن عوف قوله: كان اسمي في الجاهلية عبد عمرو، فسماني رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن، وما سيأتي برقم (5425) من قول عبد الرحمن بن عوف أيضًا: قال أُميّة بن خلَف: كاتِبني باسمك الذي كنتَ تُكاتِبُنيه عبدِ عمرٍو. والجمع بينهما أن عبد الرحمن ابن عوف كان يُسمَّى في الجاهلية عبدَ عمرو، وإنما سماه أمية بن خلف عبدَ الإله لما رأى عبد الرحمن بن عوف يكره اسم عبد عمرو، كما توضحه رواية أخرى لابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 631، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزُّبَير، عن أبيه، قال ابن إسحاق: وحدثنيه أيضًا عبد الله بن أبي بكر وغيرهما، عن عبد الرحمن بن عوف، قال كان أمية ابن خلف لي صديقًا بمكة، وكان اسمي عبدَ عمرو، فتسمَّيت حين أسلمتُ عبد الرحمن ونحن بمكة، فكان يلقاني إذ نحن بمكة فيقول: يا عبد عمرو، أرغبت عن اسمٍ سمّاكَةُ أبواك؟ فأقول: نعم، فيقول: فإني لا أعرف الرحمن، فاجعل بيني وبينك شيئًا أدعوك به … فكان إذا دعاني: يا عبد عمرو، لم أُجِبه، فقلت له: يا أبا علي اجعل ما شئت، قال: فأنت عبد الإله، قال: فقلت: نعم، قال: فكنت إذا مررتُ به قال: يا عبد الإله فأجيبه فأتحدث معه …
📌 اہم نکتہ: ناموں کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ جاہلیت میں ان کا نام "عبد عمرو" تھا، اسلام لانے پر آپ ﷺ نے "عبدالرحمن" رکھا۔ امیہ بن خلف نے جب دیکھا کہ انہیں "عبد عمرو" نام ناپسند ہے تو اس نے انہیں "عبدِ الٰہ" کہنا شروع کر دیا کیونکہ وہ "الرحمن" کے نام کو نہیں مانتا تھا۔ 📖 حوالہ / مصدر: سیرت ابن ہشام (1/ 631)۔
(1) رجاله ثقات، لكنه اختُلف في سماع عبد الرحمن - وهو ابن عبد الله بن مسعود - من أبيه، واختُلِف أيضًا على القاسم بن عبد الرحمن، فخالف فيه الحارثَ بنَ حصيرة عبدُ الرحمن بنُ عبد الله المسعودي، فرواه عن القاسم عن عبد الله بن مسعود، دون ذكر عبد الرحمن في إسناده، والمسعودي أوثق من الحارث وأعلم بحديث ابن مسعود من غيره، وخالفه أيضًا في متنه، فذكر في روايته أنه نُودي في الناس يوم حنين يا أصحاب سورة البقرة. هكذا بصيغة المجهول، وقد تبين من حديث العباس بن عبد المطلب عند مسلم (1775) والحميدي (459) وغيرهما أنَّ العباس هو الذي نادى: يا أصحاب البقرة ويا أصحاب السَّمرة. فليس هو ابن مسعود، كما وقع في رواية الحارث ابن حَصِيرة هذه، ولعلَّ هذا هو ما دعا الذهبي للحكم على هذا الحديث بالنكارة.
⚖️ درجۂ حدیث: راوی ثقہ ہیں لیکن سند میں انقطاع اور اضطراب کی وجہ سے امام ذہبی نے اسے "منکر" قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے بیٹے عبدالرحمن کے سماع میں اختلاف ہے، نیز متن میں بھی اختلاف ہے کہ پکارنے والے حضرت عباس تھے یا حضرت ابن مسعود۔
وأما ذكر عدد من ثبت مع النبي ﷺ، فلا نكارة فيه، ويؤيده حديث ابن عمر عند الترمذي (1689)، قال: لقد رأيتنا يوم حنين وإن الفئتين لمولّيتان، وما مع رسول الله ﷺ منة رجل. وصحَّحه الترمذي وحسَّنه الحافظُ في "الفتح" 12/ 548، وجمع الحافظ بين ما وقع في رواية ابن مسعود ورواية ابن عمر، وبين ما قاله أهل السير الذين ذكروا أنَّ الذين ثبتوا تسعة أو عشرة رجال فقط، فقال: من زاد على العشرة يكون عجّل في الرجوع فعُدَّ فيمن لم ينهزم.
🧩 متابعات و شواہد: میدانِ حنین میں ثابت قدم رہنے والوں کی تعداد کے متعلق حضرت ابن عمر کی روایت ترمذی (1689) میں ہے، جسے حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (12/ 548) میں حسن کہا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: دس سے زیادہ افراد وہ تھے جو فرار کے فوراً بعد واپس آگئے تھے۔
وأخرجه أحمد 7/ (4336) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد، وقال فيه: فنكصنا على أقدامنا نحوًا من ثمانين قدمًا. وهو يدل على أنَّ الثمانين الذين ثبتوا يشمل من رجع بعد أن فرَّ غير بعيدٍ.
📖 حوالہ / مصدر: مسند احمد (7/ 4336)۔ 📌 اہم نکتہ: اس روایت میں 80 افراد کا ذکر ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ جو تھوڑی دور ہٹنے کے بعد واپس آگئے تھے وہ بھی ثابت قدم رہنے والوں میں شمار ہوئے۔
وهذا يؤكد صحة ما قاله الحافظ من الجمع المذكور، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حافظ ابن حجر کی پیش کردہ تطبیق کی تائید کرتا ہے۔
وأخرجه مختصرًا ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 2/ 144 من طريق عبد الله بن المبارك، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن مسعود، قال: نُودي في الناس يوم حُنين: يا أصحاب سورة البقرة، فأقبلوا بسيوفهم كأنها الشُّهُب، فهزم الله المشركين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (2/ 144) میں مختصرًا روایت کیا ہے کہ حنین کے دن پکارا گیا: "اے سورہ بقرہ والو!"، تو وہ لوگ اپنی تلواریں لیے ٹوٹ پڑے اور اللہ نے مشرکین کو شکست دی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2581 in Urdu