المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
93. يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنَ .
شہید کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں سوائے قرض کے
حدیث نمبر: 2586
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا يزيد بن مَوهَب الرَّمْلي، حدثنا المفضَّل بن فَضَالة، عن عيّاش بن عبَّاس القِتْباني، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُعْفَرُ للشهيدِ كلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّينَ" (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث سهل بن حُنيف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2554 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2554 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے سوائے قرض کے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2586]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يزيد بن مَوهَب: هو ابن خالد بن مَوهب، نسبه لجده، وعبد الله بن يزيد: هو أبو عبد الرحمن الحُبُلي، مشهور بكنيته.» [ترقيم الرساله 2586] [ترقيم الشركة 2569] [ترقيم العلميه 2554]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2586 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح يزيد بن مَوهَب: هو ابن خالد بن مَوهب، نسبه لجده، وعبد الله بن يزيد: هو أبو عبد الرحمن الحُبُلي، مشهور بكنيته.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بالکل صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یزید بن موہب دراصل یزید بن خالد بن موہب ہیں (دادا کی طرف نسبت ہے)۔ عبداللہ بن یزید سے مراد ابو عبدالرحمن الحُبلی ہیں جو اپنی کنیت سے مشہور ہیں۔
وأخرجه أحمد 11 / (7051) عن يحيى بن غيلان، ومسلم (1886) عن زكريا بن يحيى بن صالح المصري، كلاهما عن المفضَّل بن فَضالة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (11/ 7051) اور امام مسلم (1886) نے مفضل بن فضالہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: چونکہ یہ روایت صحیح مسلم میں موجود ہے، اس لیے امام حاکم کا اسے "مستدرک" (اضافی) سمجھنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرجه مسلم (1886) من طريق سعيد بن أبي أيوب، عن عياش بن عباس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1886) نے سعید بن ابی ایوب عن عیاش بن عباس کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2586 in Urdu