🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. حُكْمُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2600
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا شعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عُمير، عن عطية القُرظي، قال: عُرضتُ على رسول الله ﷺ يوم قريظة، فشَكُّوا فيَّ، فأمر النبي ﷺ أن يُنظر إليَّ هل أَنبَتُّ؟ فنظروا إلىَّ، فلم يجدوني أنبتُّ، فخلَّى عني والحقَني بالسَّبْي (1) . حديث رواه جماعة من أئمة المسلمين عن عبد الملك بن عُمير، ولم يُخرجاه، وكأنهما لم يتأمّلا متابعة مجاهد بن جَبْر عبدَ الملك على روايته عن عطية القُرَظي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2568 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بنو قریظہ (کے فیصلے) کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، انہیں میرے بارے میں شک تھا (کہ میں بالغ ہوں یا نہیں)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دیکھا جائے کہ کیا میرے زیرِ ناف بال نکل آئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو ابھی بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھے قیدیوں (سَبْی) میں شامل کر دیا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، گویا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مجاہد بن جبر نے اس روایت میں عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2600]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2600] [ترقيم الشركة 2583] [ترقيم العلميه 2568]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2600 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18776)، وأبو داود (4404)، وابن ماجه (2541)، والترمذي (1584)، والنسائي (8567) من طريق سفيان الثَّوري، وأحمد 32/ (19421) و 37/ (22659)، وابن حبان (4780) من طريق هُشَيم بن بشير، وأبو داود (4405)، والنسائي (8566)، وابن حبان (4783) من طريق أبي عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري وابن حبان (4781) و (4788) من طريق جرير بن عبد الحميد، كلهم عن عبد الملك بن عمير، به.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد (4404)، ابن ماجہ (2541)، ترمذی (1584)، نسائی (8567) اور ابن حبان نے سفیان ثوری، ہشیم بن بشیر، ابو عوانہ الوضاح اور جریر بن عبد الحمید کے مختلف طرق سے عبد الملک بن عمیر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (4380) من طريق حماد بن سلمة، وبرقم (8372) من طريق سفيان ابن عُيينة، كلاهما عن عبد الملك.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے چل کر نمبر (4380) پر حماد بن سلمہ اور نمبر (8372) پر سفیان بن عیینہ (دونوں عن عبد الملک) کے طریق سے آئے گی۔
وسيأتي قبله برقم (8371) من طريق مجاهد، عن عطية القرظي.
🧾 تفصیلِ روایت: اس سے پہلے نمبر (8371) پر یہ روایت مجاہد عن عطیہ قرظی کے طریق سے آئے گی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2600 in Urdu