المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنِ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2655
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأسدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كان رسول الله ﷺ إذا جاءه فَيءٌ قَسَمه من يومِه، فأعطى الآهِلَ حَظَّين والعَزَبَ حظًّا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد أخرج بهذا الإسناد بعَينِه أربعةَ أحاديث، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2622 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد أخرج بهذا الإسناد بعَينِه أربعةَ أحاديث، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2622 - على شرط مسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی مالِ فئی آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شادی شدہ شخص کو دو حصے اور غیر شادی شدہ کو ایک حصہ عطا فرماتے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اسی سند کے ساتھ چار احادیث روایت کی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2655]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے اسی سند کے ساتھ چار احادیث روایت کی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2655] [ترقيم الشركة 2638] [ترقيم العلميه 2622]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2655 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23986) و (24004)، وأبو داود (2953) من طريقين عن صفوان بن عمرو، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23986، 24004) اور ابو داود (2953) نے صفوان بن عمرو کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والآهل: الذي له زوجة وعيال، والعزب: الذي لا زوجة له.
📝 لغوی تشریح: "الآھل" اس شخص کو کہتے ہیں جو بیوی بچوں والا (شادی شدہ) ہو، اور "العزب" اسے کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو (کنوارا)۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2655 in Urdu