المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. مُنَاظَرَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةَ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حروریوں سے مناظرہ
حدیث نمبر: 2688
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدثنا أبو أُميّة محمد بن إبراهيم الطَّرَسُوسي، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم بن معاوية اليَمامي، حدثنا عِكرمة بن عمار العِجْلي، حدثنا أبو زُمَيل سِماك الحَنَفي، حدثنا عبد الله بن عباس، قال: لما خرجتِ الحَرُورية اجتمعوا في دارٍ وهم ستة آلاف، أتيتُ عليًّا، فقلت: يا أمير المؤمنين، أبرِدْ بالظُّهر لَعلِّي آتي هؤلاء القوم فَأُكلّمَهم، قال: إني أخافُ عليك، قلت: كلا. قال: فخرجتُ إليهم، ولبستُ أحسنَ ما يكون من حُلل اليمن، قال أبو زُميل: كان ابن عباس جميلًا جَهِيرًا، قال ابن عباس: فأتيتُهم وهم مجتمِعُون في دارهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، فقالوا: مرحبًا بك يا ابن عباس، فما هذه الحُلّة؟ قال: قلت: ما تَعيبون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، ونَزَلَ: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ، قالوا: فما جاء بك؟ قلت: أتيتُكم مِن عند صحابة النبي ﷺ من المهاجرين والأنصار، لأُبلِّغكم ما يقولون، وتُخبروني (1) بما تقولون، فعليهم نزل القرآن، وهم أعلمُ بالوحي منكم وفيهم أُنزل، وليس فيكم منهم أحدٌ. فقال بعضهم: لا تُخاصِموا قريشًا، فإنَّ الله يقول: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] . قال ابن عباس: وأتيتُ قومًا لم أرَ قومًا قطُّ أشدَّ اجتهادًا منهم، مُسهَمَةً وجوهُهم من السَّهر، كأنَّ أيديهم ورُكبَهم ثَفِنٌ (2) ، عليهم قُمُصٌ مُرَحَّضة (3) ، فقال بعضُهم: لنُكلِّمنَّه ولنَنظُرنَّ ما يقول، قلت: أخبِروني ماذا نَقَمتُم على ابن عمِّ رسول الله ﷺ وصهرِه والمهاجرين والأنصار؟ قالوا: ثلاثًا، قلت: ما هنّ؟ قالوا: أما إحداهنّ: فإنه حَكَّم الرجالَ في أمر الله، وقال الله: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ [يوسف: 40] ، وما للرِّجال وما للحكم؟ فقلت: هذه واحدة، قالوا: وأما الأُخرى: فإنه قاتَلَ ولم يَسْبِ ولم يَغْنَم، فلئن كان الذي قاتَلَ كفارًا، لقد حَلَّ سَبْيُهم (1) وغنيمتُهم، ولئن كانوا مؤمنين ما حَلّ قتالُهم. قلت: هذه ثِنتان، فما الثالثة؟ قالوا: إنه مَحَا نفسَه مِن أمير المؤمنين، فهو أمير الكافرين، قلت: أعندكم سوى هذا؟ قالوا: حسبُنا هذا. فقلت لهم: أرأيتُم إن قرأتُ عليكم من كتاب الله ومن سنة نبيه ﷺ ما يردُّ به قولَكم، أتَرْضَون؟ قالوا: نعم، فقلت لهم: أمّا قولكم: حَكَّم الرجالَ في أمر الله، فأنا أقرأ عليكم ما قد رُدَّ حكمُه إلى الرجال في ثمن رُبع درهم في أرنبٍ ونحوِها من الصيد، فقال: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ﴾ إلى قوله: ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [المائدة: 95] ، فنشَدتُكم بالله، أحُكمُ الرجالِ في أرنبٍ ونحوها من الصيد أفضلُ، أم حُكمُهم في دمائهم وصلاحِ ذاتِ بينِهم، وأن تَعلَمُوا أنَّ الله لو شاء لحكَم ولم يُصيِّر ذلك إلى الرجال؟ وفي المرأة وزوجها قال الله ﷿: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا﴾ [النساء: 35] ، فجعل الله حُكمَ الرجالِ سنةً ماضية. أخَرَجتُ عن هذه؟ قالوا: نعم. قال: وأما قولكم: قاتَلَ ولم يَسْبِ، ولم يَغْنَم، أتسْبُون أمَّكم عائشة، ثم تَستحلُّون منها ما يُستحلُّ من غيرها؟ فلئن فعلتُم لقد كفرتُم وهي أمُّكم، ولئن قلتم: ليست بأمِّنَا، لقد كفرتم، فإنَّ الله يقول: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [الأحزاب: 6] ، فأنتم تدُورون بين ضلالَتَين، أيُّهما صِرتُم إليها صِرتُم إلى ضلالةٍ، فنظر بعضُهم إلى بعض. قلت: أخَرَجتُ من هذه؟ قالوا: نعم. قال: وأما قولكم: مَحَا اسمَه من أمير المؤمنين، فأنا آتيكُم بمن تَرضَون، وأُراكم قد سمعتُم: أنَّ النبي ﷺ يومَ الحُدَيبيَة كاتَبَ سُهيلَ بن عمرو وأبا سفيان بن حَرْب، فقال رسول الله ﷺ لأمير المؤمنين:"اكتُبْ يا عليُّ: هذا ما اصطَلَح عليه محمدٌ رسول الله" فقال المشركون: لا والله ما نعلم أنك رسولُ الله، لو نعلم أنك رسولُ الله ما قاتَلْناك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم إنك تَعلمُ أني رسولُ الله، اكتُبْ يا عليُّ: هذا ما اصطَلَح عليه محمدُ بنُ عبد الله"، فوالله لَرسولُ الله خيرٌ من عليٍّ، وما أخرَجَه من النبوّة حين مَحَا نفسه. قال عبد الله بن عباس: فرجع من القوم أَلفان، وقُتل سائرُهم على ضلالةٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2656 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2656 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حروریہ (خوارج) نکلے تو وہ ایک گھر میں جمع ہوئے اور ان کی تعداد چھ ہزار تھی، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) ادا فرمائیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے گفتگو کروں“، انہوں نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں ان سے خطرہ ہے“، میں نے کہا: ” «كلا» (ہرگز نہیں، آپ فکر نہ کریں)۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ان کی طرف نکلا اور میں نے یمن کے بہترین جوڑے پہن رکھے تھے، ابوزمیل کہتے ہیں کہ ابن عباس انتہائی حسین اور بلند آواز والے انسان تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ میں ان کے پاس پہنچا تو وہ دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام کر رہے تھے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: ”خوش آمدید اے ابن عباس! یہ کیسا لباس ہے؟“ میں نے کہا: ”تم مجھ پر کیا اعتراض کرتے ہو، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر پر بہترین جوڑے دیکھے ہیں اور قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی ہے: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [سورة الأعراف: 32] ”آپ کہیے کہ اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی ہے اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو (کس نے منع کیا ہے)؟““ انہوں نے پوچھا: ”آپ یہاں کیسے آئے؟“ میں نے کہا: ”میں تمہارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر و انصار صحابہ کی طرف سے آیا ہوں تاکہ تمہیں ان کی باتیں پہنچاؤں اور تم مجھے اپنی باتیں بتاؤ، ان صحابہ پر قرآن نازل ہوا اور وہ تم سے زیادہ وحی کے مفہوم کو جاننے والے ہیں، جبکہ تم میں ان میں سے ایک بھی موجود نہیں ہے۔“ ان میں سے بعض نے کہا: ”قریش سے بحث نہ کرو کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [سورة الزخرف: 58] ”بلکہ وہ تو جھگڑالو لوگ ہیں“۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایسے لوگوں کے پاس آیا تھا کہ میں نے ان سے زیادہ عبادت میں محنت کرنے والے لوگ کبھی نہیں دیکھے، شب بیداری کی وجہ سے ان کے چہرے پچکے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ اور گھٹنے کثرتِ سجود سے اونٹ کے گٹوں کی طرح سخت ہو چکے تھے اور انہوں نے دھلی ہوئی قمیصیں پہن رکھی تھیں، بعض نے کہا: ”ہم ان سے ضرور بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ یہ کیا کہتے ہیں“، میں نے کہا: ”مجھے بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد، ان کے داماد اور مہاجر و انصار صحابہ سے کیا شکایت ہے؟“ انہوں نے کہا: ”تین باتیں ہیں“، میں نے پوچھا: ”وہ کیا ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”پہلی بات یہ کہ انہوں نے اللہ کے دین میں انسانوں کو «حَكم» (فیصلہ کرنے والا) بنایا ہے جبکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ [سورة يوسف: 40] ”فیصلہ صرف اللہ کا ہے“، تو پھر انسانوں کا فیصلے سے کیا تعلق؟“ میں نے کہا: ”یہ ایک ہوئی، دوسری کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”انہوں نے جنگ تو کی لیکن نہ قیدی بنائے اور نہ ہی مالِ غنیمت لیا، پس اگر وہ لوگ جن سے انہوں نے جنگ کی کفار تھے تو ان کے قیدی اور غنیمت حلال تھے، اور اگر وہ مومن تھے تو ان سے جنگ ہی حلال نہ تھی۔“ میں نے کہا: ”یہ دو ہوئیں، تیسری کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”انہوں نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب مٹا دیا، پس (جب وہ مومنوں کے امیر نہیں رہے تو) پھر وہ کافروں کے امیر ہیں۔“ میں نے پوچھا: ”کیا اس کے سوا بھی کچھ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہمارے لیے یہی کافی ہے۔“ میں نے ان سے کہا: ”اگر میں تمہارے سامنے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ایسی بات پڑھوں جو تمہارے قول کو رد کر دے تو کیا تم راضی ہو جاؤ گے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“، میں نے ان سے کہا: ”رہی بات انسانوں کو حَکم بنانے کی، تو میں تمہارے سامنے وہ آیت پڑھتا ہوں جہاں اللہ نے چوتھائی درہم کی مالیت کے خرگوش اور اس جیسے شکار کے معاملے میں فیصلے کا اختیار انسانوں کو دیا ہے، اللہ فرماتا ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ﴾ سے لے کر ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 95] ”تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں“، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ شکار کے معاملے میں انسانوں کا فیصلہ کرنا زیادہ اہم ہے یا مسلمانوں کے خون کی حفاظت اور ان کی باہمی اصلاح کے معاملے میں؟ جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ اگر چاہتا تو خود فیصلہ فرما دیتا مگر اس نے اسے انسانوں کے سپرد کیا۔ اسی طرح میاں بیوی کے متعلق اللہ نے فرمایا: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 35] ”اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان ان بن کا خوف ہو تو ایک حَکم مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے بھیجو“، پس اللہ نے انسانوں کے فیصلے کو ایک جاری سنت قرار دیا ہے۔ کیا میں اس اعتراض سے نکل گیا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ میں نے کہا: ”رہی بات جنگ میں قیدی نہ بنانے کی، تو کیا تم اپنی ماں عائشہ کو قیدی بناتے اور پھر ان سے وہ کچھ حلال سمجھتے جو دوسروں سے حلال سمجھا جاتا ہے؟ اگر تم ایسا کرتے تو یقیناً تم کافر ہو جاتے اور اگر تم یہ کہتے کہ وہ ہماری ماں نہیں ہیں تب بھی تم کافر ہو جاتے کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 6] ”نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“، پس تم دو گمراہیوں کے درمیان بھٹک رہے ہو، تم جس طرف بھی جاؤ گے گمراہی ہی پاؤ گے، یہ سن کر وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ میں نے پوچھا: ”کیا میں اس اعتراض سے بھی نکل گیا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ میں نے کہا: ”رہی بات امیر المؤمنین کا لقب مٹانے کی، تو میں تمہارے سامنے وہ مثال پیش کرتا ہوں جس پر تم راضی ہو، تم نے سنا ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو اور ابوسفیان بن حرب کے ساتھ صلح نامہ لکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر المؤمنین (علی) سے فرمایا: «اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”اے علی لکھو: یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد نے اتفاق کیا ہے“، مشرکین نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا تو ہم آپ سے جنگ نہ کرتے“، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ» ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، اے علی لکھو: یہ وہ صلح ہے جو محمد بن عبداللہ نے کی ہے“، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے کہیں بہتر ہیں اور انہوں نے اپنے نام سے رسول اللہ کا لفظ مٹا کر خود کو نبوت سے خارج نہیں کیا تھا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: چنانچہ ان میں سے دو ہزار لوگ تائب ہو کر واپس آگئے اور باقی اپنی گمراہی پر قائم رہے یہاں تک کہ قتل کر دیے گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2688]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2688] [ترقيم الشركة 2671] [ترقيم العلميه 2656]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2688 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في النسخ الخطية: المخبرون، والمثبت من رواية البيهقي في "سننه الكبرى" 8/ 179 عن أبي عبد الله الحاكم، وهو الموافق لرواية عبد الرحمن بن مهدي عن عكرمة بن عمار، حيث جاء فيها: وأبلّغهم ما تقولون.
🔍 نسخوں کا اختلاف: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "المخبرون" (خبر دینے والے) واقع ہوا ہے، لیکن ہم نے بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (8/179) والی روایت سے لفظ درست کیا ہے جو امام حاکم سے ہی مروی ہے۔ یہی لفظ عبدالرحمن بن مہدی کی عکرمہ بن عمار سے روایت کے موافق ہے جس میں الفاظ ہیں: "وأبلّغهم ما تقولون" (اور میں انہیں وہ پہنچاؤں گا جو تم کہہ رہے ہو)۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: تثنى، وجاء على الصواب في رواية البيهقي. والثَّفِن: ما ولي الأرض من كل ذات أربع إذا بَرَكت، ويحصل فيه غِلَظٌ.
🔍 تحریف و لغت: نسخوں میں یہ لفظ غلطی سے "تثنی" ہو گیا ہے، جبکہ صحیح لفظ بیہقی کی روایت میں موجود ہے۔ 📝 تشریح: "الثَّفِن" (گٹے) چوپایوں کے جسم کے اس حصے کو کہتے ہیں جو بیٹھتے وقت زمین سے لگتا ہے اور (رگڑ کی وجہ سے) سخت و موٹا ہو جاتا ہے۔ (یہاں اس سے مراد کثرتِ سجود سے ماتھے یا گھٹنوں پر پڑنے والے نشانات ہیں)۔
(3) تحرَّفت العبارة في النسخ، وجاءت على الصواب في رواية البيهقي. والقُمُص المُرحَّضة: المغسُولة.
🔍 تحریف و لغت: نسخوں میں یہ پوری عبارت بدل گئی تھی، ہم نے اسے بیہقی کی روایت کے مطابق درست کیا ہے۔ 📝 تشریح: "القُمُص المُرحَّضة" سے مراد دھلی ہوئی قمیصیں ہیں۔
(1) تحرَّف في (ز) إلى: سلبهم.
🔍 نسخوں کا اختلاف: نسخہ (ز) میں یہ لفظ تحریف (غلطی) کے بعد "سلبهم" ہو گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أبو داود (4037) عن إبراهيم بن خالد أبي ثور الكلبي، عن عمر بن يونس، بهذا الإسناد. مختصرًا بذكر خروج ابن عباس للحرورية لابسًا أحسن الحلل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4037) نے اسی سند کے ساتھ عمر بن یونس سے روایت کیا ہے، لیکن اسے مختصراً بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خوارج (حروریہ) کے پاس بہترین لباس پہن کر نکلے تھے۔
وأخرجه أحمد 5/ (3187)، والنسائي (8522) و (11747) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن عكرمة بن عمار به ورواية أحمد والنسائي في الموضع الثاني مختصرة بذكر صلح الحديبية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے عبدالرحمن بن مہدی از عکرمہ بن عمار کے طریق سے روایت کیا ہے۔ احمد اور نسائی کی دوسری روایت میں صرف صلحِ حدیبیہ کا مختصر ذکر ہے۔
وسيأتي برقم (7555) من طريق محمد بن عيسى بن حيان المدائني، عن عمر بن يونس، لكن بزيادة رجل بين أبي زُميل وابن عباس. وانفرد بذلك المدائني وهو إلى الضعف أقرب.
🔍 فنی نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (7555) پر محمد بن عیسیٰ المدائنی از عمر بن یونس کے طریق سے آئے گی، لیکن اس میں ابوزمیل اور ابن عباس کے درمیان ایک مزید راوی کا اضافہ ہے۔ ⚖️ جرح: اس اضافے میں مدائنی اکیلا ہے اور وہ ضعیف ہونے کے قریب ہے۔
وقوله: "أبرِد بالظهر" أي: أخّر الصلاة حتى يخفّ الحَرّ.
📝 تشریح: "أبرِد بالظهر" کا مطلب ہے ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھو، یعنی اتنی تاخیر کرو کہ گرمی کی شدت میں کمی آ جائے۔
والحَرُورية: نسبة إلى حَرُوراء، وهي موضع قريب من الكوفة كان أول ما اجتمعت فيه الخوارج، فنسبوا إليه، وخروجهم هو انتقاضهم على أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁.
📝 تاریخی پس منظر: "حروریہ" کا نام "حروراء" نامی جگہ کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک مقام ہے جہاں سب سے پہلے خوارج جمع ہوئے تھے۔ ان کا "خروج" سے مراد امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خلاف بغاوت کرنا ہے۔
والجَهِير: ذو المنظر الجليل الحسن.
📝 لغوی تشریح: "الجَہیْر" سے مراد وہ شخص ہے جو باوقار اور خوبصورت منظر والا (وجیہہ) ہو۔
ومُسهَمَة، أي: متغيّرة.
📝 لغوی تشریح: "مُسہَمَہ" کا معنی ہے بدلی ہوئی یا متغیر (رنگت کا اتر جانا)۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2688 in Urdu