المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. مُكْثُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سِنِينَ نَبِيًّا
سیدنا رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک نبی کی حیثیت سے مقیم رہے
حدیث نمبر: 2994
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا علي بن حَكِيم الأوْدي، حدثنا إسحاق بن يوسف، عن حمزة بن حَبيب، عن أبي إسحاق، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيٍّ: أَنَّ رسول الله ﷺ قرأ ﴿قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا﴾ [الكهف: 76] ؛ مهموزتَينِ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. إنما اتَّفقا (1) على حديث عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيٍّ قصةَ موسى والخَضِر بطوله، وليس فيه ذِكرُ الهمزتين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2957 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. إنما اتَّفقا (1) على حديث عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، عن أُبيٍّ قصةَ موسى والخَضِر بطوله، وليس فيه ذِكرُ الهمزتين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2957 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لفظ «سالتك» کو) دو ہمزہ کے ساتھ ﴿قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا﴾ ”اس نے کہا: اگر اب میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں (تو مجھے ساتھ نہ رکھیے گا)“ تلاوت فرمایا۔ [سورة الكهف: 76]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف عمرو بن دینار کی روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سیدنا موسیٰ اور خضر علیہما السلام کا قصہ تفصیل سے ہے لیکن اس میں دو ہمزہ کا ذکر نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2994]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف عمرو بن دینار کی روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سیدنا موسیٰ اور خضر علیہما السلام کا قصہ تفصیل سے ہے لیکن اس میں دو ہمزہ کا ذکر نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي. وأخرجه أحمد 5/ (21123)، وابن حبان (6326) من طريق يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن حمزة بن حبيب بهذا الإسناد. ولم يذكر أحمد فيه التنصيص على الهمز.» [ترقيم الرساله 2994] [ترقيم الشركة 2975] [ترقيم العلميه 2957]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2994 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي. وأخرجه أحمد 5/ (21123)، وابن حبان (6326) من طريق يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن حمزة بن حبيب بهذا الإسناد. ولم يذكر أحمد فيه التنصيص على الهمز.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ السبیعی" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 5/ (21123) اور ابن حبان (6326) نے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، عن حمزہ بن حبیب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام احمد نے اس میں ہمزہ کی تصریح ذکر نہیں کی۔
(1) البخاري برقم (3401)، ومسلم برقم (2380) (170).
📖 حوالہ / مصدر: بخاری نمبر (3401)، اور مسلم نمبر (2380) (170)۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2994 in Urdu