المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
191. فُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ بِسَجْدَتَيْنِ
سورۂ حج کو دو سجدوں کی فضیلت حاصل ہے
حدیث نمبر: 3512
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن لَهِيعة. وأخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا إسحاق بن عيسى، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثني مِشرَح بن هاعانَ، قال: سمعت عُقْبةَ بن عامر يقول: قلت: يا رسول الله أفُضِّلَت سورةُ الحج بسجدتين؟ قال:"نعم، فمَن لم يَسجُدْهما فلا يَقرأْهما" (2) .
هذا حديث لم نكتبه مُسنَدًا إلَّا من هذا الوجه، وعبد الله بن لَهِيعة بن عُقْبة الحَضرَمي أحد الأئمة، إنما نُقِمَ عليه اختلاطُه في آخر عمره، وقد صحَّت الروايةُ فيه من قول عمر بن الخطَّاب وعبد الله بن عبَّاس وعبد الله بن عمر وعبد الله بن مسعود وأبي موسى وأبي الدَّرداء وعمَّار. أما حديث عمر بن الخطَّاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3470 - صحت الرواية في هذا من قول عمرو طائفة
هذا حديث لم نكتبه مُسنَدًا إلَّا من هذا الوجه، وعبد الله بن لَهِيعة بن عُقْبة الحَضرَمي أحد الأئمة، إنما نُقِمَ عليه اختلاطُه في آخر عمره، وقد صحَّت الروايةُ فيه من قول عمر بن الخطَّاب وعبد الله بن عبَّاس وعبد الله بن عمر وعبد الله بن مسعود وأبي موسى وأبي الدَّرداء وعمَّار. أما حديث عمر بن الخطَّاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3470 - صحت الرواية في هذا من قول عمرو طائفة
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا سورہ حج کو دو سجدوں کے ذریعے (دوسری سورتوں پر) فضیلت دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، پس جو شخص ان دونوں سجدوں کو نہ کرے وہ ان (سجدے والی آیات) کو نہ پڑھے۔“
ہم نے اس حدیث کو مسنداً صرف اسی سند سے لکھا ہے، اور عبداللہ بن لہیعہ بن عقبہ الحضرمی ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف ان کی عمر کے آخری حصے میں حافظہ کے اختلاط کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے، جبکہ اس (سورہ حج میں دو سجدے ہونے) کی روایت سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو موسیٰ، سیدنا ابو الدرداء اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہم کے اقوال سے صحیح ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3512]
ہم نے اس حدیث کو مسنداً صرف اسی سند سے لکھا ہے، اور عبداللہ بن لہیعہ بن عقبہ الحضرمی ائمہ میں سے ایک ہیں، ان پر صرف ان کی عمر کے آخری حصے میں حافظہ کے اختلاط کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے، جبکہ اس (سورہ حج میں دو سجدے ہونے) کی روایت سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو موسیٰ، سیدنا ابو الدرداء اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہم کے اقوال سے صحیح ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3512]
تخریج الحدیث: «حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "من لم يسجدهما فلا يقرأهما". وقد سلف برقم (900).» [ترقيم الرساله 3512] [ترقيم الشركة 3491] [ترقيم العلميه 3470]
الحكم على الحديث: حسن بطرقه و
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3512 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "من لم يسجدهما فلا يقرأهما". وقد سلف برقم (900).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ اپنے طرق و شواہد کی بنا پر "حسن" ہے، سوائے اس ٹکڑے کے: "جو ان (آیات) میں سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے"۔ یہ (900) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3512 in Urdu