المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
419. تَفْسِيرُ سُورَةِ ( لَمْ يَكُنْ )
تفسیر سورہ لم یکن (سورہ البینہ)
حدیث نمبر: 4006
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا أبو داود، حدَّثنا شُعبة، عن عاصم، عن زرٍّ، عن أبيِّ بن كعب: أنَّ النبي ﷺ قرأ عليه ﴿لَمْ يَكُنِ﴾، وقرأَ فيها: (إِنَّ ذاتَ الدِّينِ عندَ الله الحَنِيفيّةُ لا اليهوديةُ ولا النصرانيةُ ولا المجوسيةُ، ومن يَعمَلْ خيرًا فلن يُكفَرَه) (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3962 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3962 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے سورۃ ﴿لَمْ يَكُنِ﴾ کی تلاوت فرمائی، اور اس میں (ان الفاظ کی بھی) تلاوت فرمائی: ”بیشک اللہ کے نزدیک اصل دین حنیفیت (دین ابراہیمی) ہے، یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت نہیں ہے، اور جو کوئی بھلائی کرے گا تو اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4006]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وزر: هو ابن حُبيش.» [ترقيم الرساله 4006] [ترقيم الشركة 3984] [ترقيم العلميه 3962]
الحكم على الحديث: إسناده حسن.
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4006 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وزر: هو ابن حُبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عاصم (ابن ابی النجود) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابو داؤد سے مراد "سلیمان بن داؤد طیالسی" اور زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3898) عن محمود بن غيلان، عن أبي داود، بهذا الإسناد - وفيه زيادة، وقال: حديث حسن صحيح. وانظر ما سلف برقم (2925).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3898) نے محمود بن غیلان سے، انہوں نے ابو داؤد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - اور اس میں زیادتی ہے، اور انہوں نے کہا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔ اور جو پہلے نمبر (2925) پر گزر چکا ہے اسے دیکھیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4006 in Urdu