المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
202. اسْتُشْهِدَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً
سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد کے دن چون برس کی عمر میں شہید ہوئے
حدیث نمبر: 4952
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان، حدثنا أبو أسامة، حدثنا أسامة بن زيد، عن نافع عن ابن عمر، قال: رجعَ رسول الله ﷺ يوم أُحدٍ، فسمع نساءَ بني عبد الأشْهَلِ يَبكينَ على هَلْكاهُنَّ، فقال:"لكنَّ حمزةَ لا بواكيَ له" (2) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگِ احد سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد الاشہل کی عورتوں کے رونے کی آواز سنی جو اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کے لیے تو کوئی رونے والی نہیں ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 4952] [ترقيم الشركة 4919]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4952 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - کی وجہ سے "حسن" ہے۔ سند میں موجود "ابو اسامہ" سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (4944) من طريق عثمان بن عمر عن أسامة بن زيد.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (4944) میں عثمان بن عمر کے طریق سے، انہوں نے اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہوئے گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4952 in Urdu