🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. الْأَمْرُ بِسُؤَالِ تَجْدِيدِ الْإِيمَانِ
ایمان کی تجدید کی دعا کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
5 - حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أبو الطاهر، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن مَيْسَرة، عن أبي هانئ الخَوْلاني حُميد بن هانئ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الإيمان لَيَخلَقُ في جوف أحدِكم كما يَخلَقُ الثوبُ الخَلَقُ، فَسَلُوا اللهَ أن يجدِّدَ الإيمانَ في قلوبكم" (1) .
هذا حديث لم يخرَّج في"الصحيحين"، ورواتُه مِصريّون ثقات. وقد احتجَّ مسلم في"الصحيح" بالحديث الذي رواه عن ابن أبي عمر، عن المقرئ، عن حَيْوة، عن أبي هانئ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ الله - تعالى ذِكرُه - كتب مقاديرَ الخلائق قبل أن يَخلُقَ السماواتِ والأرضَ" الحديث (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5 - رواته ثقات
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایمان تمہارے کسی کے اندر (سینے میں) اسی طرح پرانا ہو جاتا ہے جیسے کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، پس تم اللہ سے دعا کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید فرما دے (اسے تازہ کر دے)۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، جبکہ اس کے راوی ثقہ مصری ہیں۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس سند سے احتجاج کیا ہے جو انہوں نے «ابن ابي عمر عن المقرئ عن حيوه عن ابي هانئ عن ابي عبدالرحمن الحبلي عن عبدالله بن عمرو» کے واسطے سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل عبد الرحمن بن ميسرة - وهو أبو ميسرة الحضرمي المصري - فقد روى عنه جمع، ووثقه المصنف لاحقًا، وحسَّن الإسنادَ الهيثمي في "مجمع الزوائد" 1/ 52- أبو الطاهر: هو أحمد بن عمرو بن السَّرْح، وأبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري-» [ترقيم الرساله 5] [ترقيم الشركة 5] [ترقيم العلميه 5]

الحكم على الحديث: إسناده حسن

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ميسرة - وهو أبو ميسرة الحضرمي المصري - فقد روى عنه جمع، ووثقه المصنف لاحقًا، وحسَّن الإسنادَ الهيثمي في "مجمع الزوائد" 1/ 52. أبو الطاهر: هو أحمد بن عمرو بن السَّرْح، وأبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المَعَافري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند عبد الرحمن بن میسرہ (جو ابو میسرہ الحضرمی المصری ہیں) کی وجہ سے حسن ہے؛ ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور مصنف نے بعد میں ان کی توثیق بھی کی ہے۔ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" 1/ 52 میں اس سند کو حسن قرار دیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں ابو الطاہر سے مراد "احمد بن عمرو بن السرح" ہیں، اور ابو عبد الرحمن الحبلی سے مراد "عبد اللہ بن یزید المعافری" ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (14668) من طريق حرملة بن يحيى، عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (14668) میں حرملہ بن یحییٰ، عن ابن وہب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "لَيَخلَقُ" أي: يَبْلَى.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "لَيَخلَقُ" کا مطلب ہے: وہ پرانا (بوسیدہ) ہو جاتا ہے۔
(2) هو في "صحيح مسلم" برقم (2653)، ورواه فيه أيضًا عن أبي الطاهر، عن ابن وهب، عن أبي هانئ الخولاني به، ورواه أيضًا من طريق نافع بن يزيد عن ابن هانئ. وأخرجه أحمد 11/ (6579)، والترمذي (2156)، وابن حبان (6138) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ، به.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث "صحیح مسلم" میں نمبر (2653) پر موجود ہے۔ وہاں اسے ابو الطاہر، عن ابن وہب، عن ابی ہانی الخولانی کے واسطے سے روایت کیا گیا ہے، اور نافع بن یزید عن ابن ہانی کے طریق سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ نیز اسے امام احمد 11/ (6579)، ترمذی (2156)، اور ابن حبان (6138) نے عبد اللہ بن یزید المقرئ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5 in Urdu