المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
582. لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ
جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا
حدیث نمبر: 5868
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا عاصم بن بَهْدلةَ، عن مصعب بن سعد، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ أُتِي بقصْعةٍ، فأكل منها ففَضَلَتْ منها فَضْلةٌ، فقال رسول الله ﷺ:"يجيءُ رجلٌ من هذا الفَجِّ من أهل الجنَّة فيَأْكُلُ هذه" قال سعد: وكنت تركتُ عُميرًا أخي يتوضَّأ، فقلت: هو عُميرٌ، فجاء عبدُ الله بنُ سَلَام فأكلَها (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب سَلَمة بن سَلَامة بن وَقْش الأنصاريّ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5759 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5759 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانے کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا تو کچھ کھانا بچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی اس گھاٹی سے ایک ایسا شخص نمودار ہوگا جو جنتی ہے اور وہ یہ بچا ہوا کھانا کھائے گا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (آتے ہوئے) اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ کر آیا تھا، تو میں نے (دل میں) کہا کہ وہ عمیر ہی ہوگا، لیکن سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے وہ کھانا کھا لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5868]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5868]
تخریج الحدیث: «إسناده حسنٌ من أجل عاصم بن بَهْدلة: وهو ابن أبي النَّجُود. سعدٌ: هو ابن أبي وقاص.» [ترقيم الرساله 5868] [ترقيم الشركة 5811] [ترقيم العلميه 5759]
الحكم على الحديث:
إسناده حسنٌ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5868 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسنٌ من أجل عاصم بن بَهْدلة: وهو ابن أبي النَّجُود. سعدٌ: هو ابن أبي وقاص.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ عاصم بن بہدلہ (ابن ابی النجود) کی وجہ سے ہے۔ سعد سے مراد ابن ابی وقاص ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (1458) و (1591)، وابن حبان (7164) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1458 اور 1591) اور ابن حبان (7164) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (1592) من طريق أبان بن يزيد العطار، عن عاصم به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (1592) نے ابان بن یزید العطار کے طریق سے عاصم سے روایت کیا ہے۔
وقد روى عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال: ما سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لأحدٍ يمشى على الأرض: إنه من أهل الجنة، إلّا لعبد الله بن سلام. وقد تقدم تخريجه بإثر (5862).
📖 حوالہ / مصدر: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمین پر چلنے والے کسی شخص کے بارے میں یہ کہتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام کے۔ اس کی تخریج (5862) کے بعد گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5868 in Urdu