🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
832. ذِكْرُ أَوْلَادِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اولاد کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6455
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن محمد بن ناجيَةَ، حدثنا إسحاق بن وهب الواسطي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمشُ، عن المسيَّب بن رافع قال: لما كُفَّ بصرُ ابنِ عبّاس أتاه رجل فقال له: إنك إنْ صَبَرتَ لي سبعًا لم تُصلِّ إلَّا مستلقيًا تُومِيُّ إيماءً، داويتُك فبَرَأتَ إن شاء الله، فأرسَلَ إلى عائشةَ وأبي هريرة وغيرهما من أصحاب محمد ﷺ [كلٌّ] يقول: أرأيتَ إن مُتَّ في هذا السَّبْع، كيف تَصنعُ بالصلاة؟ قال: فتركَ عينَه ولم يُداوِها (1) . ذكرُ مناقب عَوْف بن مالك الأشجعي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6319 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مسیب بن رافع بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی چلی گئی تو ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: ”اگر آپ سات دن تک اس بات پر آمادگی ظاہر کریں کہ آپ صرف لیٹ کر اشاروں سے نماز پڑھیں گے تو میں آپ کا علاج کر دوں گا اور ان شاء اللہ آپ شفایاب ہو جائیں گے،“ انہوں نے سیدہ عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سمیت دیگر صحابہ کرام کی طرف مشورے کے لیے پیغام بھیجا تو سب نے یہی کہا: ”ذرا سوچیے اگر آپ ان سات دنوں کے دوران فوت ہو گئے تو آپ کی ان نمازوں کا کیا بنے گا (جو آپ نے لیٹ کر پڑھیں)؟“ چنانچہ انہوں نے اپنی آنکھ کا علاج نہیں کرایا اور اسے اسی حال پر چھوڑ دیا۔
آگے سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6455]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.» [ترقيم الرساله 6455] [ترقيم الشركة 6380] [ترقيم العلميه 6319]

الحكم على الحديث:
رجاله لا بأس بهم. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6455 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے (درست ہیں)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابو معاویہ سے مراد "محمد بن خازم الضریر" ہیں۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 2/ 236، ومن طريقه ابن المنذر في "الأوسط" (2311) عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (2/ 236) نے اور ان کے طریق سے ابن المنذر نے "الاوسط" (2311) میں ابو معاویہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه ابن المنذر (2312) من طريق أبي عوانة عن الأعمش، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت ابن المنذر (2312) نے ابو عوانہ کے طریق سے سلیمان بن مہران الاعمش کے واسطے سے نقل کی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6455 in Urdu