🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
918. اسْتِخْلَافُ النَّبِيِّ أَبَا رُهْمٍ عَلَى الْمَدِينَةِ
نبی کریم ﷺ کا سیدنا ابو رہم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا قائم مقام مقرر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6662
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، حدثني ابنُ أخي أبي رُهم، أنه سمع أبا رُهُم كُلثومَ بن حُصين -من أصحاب رسول الله ﷺ الذين بايعوا تحتَ الشَّجرة- قال: غزوتُ مع رسول الله ﷺ غزوةَ تَبُوكَ، فسِرتُ ذاتَ ليلةٍ معه ونحن بقُرْبِ رسول الله ﷺ وأُلقِيَ عليه النُّعاسُ، وجعلتُ أَستيقِظُ وقد دَنَتْ راحِلَتي من راحلةِ رسول الله ﷺ فَطَفِقتُ أَجْرُرُ (1) راحلتي عنه حتى غَلَبَتْني عَيْني في بعض الطريق ونحنُ في بعض الليل، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ أعَزَّ أهلي عليَّ أن يتخلَّفَ عنِّي المهاجرون من قُريشٍ والأنصارُ وأَسلَمُ وغِفارٌ" (2) . ذكرُ حُذَيفة بن أَسِيد الغِفاري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6518 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابورہم کے بھتیجے سے مروی ہے، انہوں نے ابورہم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ (جو شجرہ کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ میں سے ہیں) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی، ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ ہوا، میری سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے بہت قریب ہو گئی تو میں اپنی سواری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹانے لگا یہاں تک کہ رات کے کسی پہر میری آنکھ لگ گئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے نزدیک میرے اہل میں سب سے زیادہ معزز وہ ہیں جو مجھ سے پیچھے نہیں رہتے یعنی قریش کے مہاجرین، انصار اور قبائل اسلم و غفار۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6662]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه ضعف لابهام ابن أخي أبي رهم وجهالته، فقد انفرد بالرواية عنه الزهري.» [ترقيم الرساله 6662] [ترقيم الشركة 6582] [ترقيم العلميه 6518]

الحكم على الحديث:
إسناده فيه ضعف لابهام ابن أخي أبي رهم وجهالته

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6662 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية، وفي "تلخيص الذهبي": أزجر.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں یہ لفظ "أزجر" درج ہے۔
(2) إسناده فيه ضعف لابهام ابن أخي أبي رهم وجهالته، فقد انفرد بالرواية عنه الزهري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں ضعف ہے؛ کیونکہ ابو رُہم کا بھتیجا "مبہم" اور "مجہول" ہے، اور ان سے روایت کرنے میں امام زہری منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 31 / (19072)، وابن حبان (7257) من طريق عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 31 / (19072) اور ابن حبان (7257) نے عبد الرزاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6662 in Urdu