🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1000. ذِكْرُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا یزید بن عبد اللہ ابو السائب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6831
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عبد الله بن السائب بن يزيد، عن أبيه، عن جدِّه، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول:"لا يأخُذْ أحدُكم متاعَ صاحبه لاعبًا ولا جادًّا، وإذا وَجَدَ أحدُكم عصا صاحبِه فليردَّها إليه" (3) . وابنُه السائب بن يزيد أدرك النبيَّ ﷺ وروى عنه حديثًا (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6686 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا (یزید بن سعید) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کا سامان مذاق میں یا سنجیدگی سے (بغیر اجازت کے) نہ لے، اور اگر کسی کو اپنے ساتھی کی لاٹھی بھی ملے تو وہ اسے واپس کر دے۔“ اور ان کے بیٹے سائب بن یزید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6831]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.» [ترقيم الرساله 6831] [ترقيم الشركة 6751] [ترقيم العلميه 6686]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6831 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن ابی ذئب سے مراد محمد بن عبد الرحمن بن المغیرہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (17940 - 17942)، وأبو داود (5003)، والترمذي (2160) من طرق عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن غريب لا نعرفه إلَّا من حديث ابن أبي ذئب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داود (5003) اور ترمذی (2160) نے ابن ابی ذئب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے اور فرمایا کہ یہ صرف ابن ابی ذئب کی حدیث سے جانی جاتی ہے۔
(4) قوله: حديثًا، أثبتناه من (ب)، ولم يرد في (م) و (ص).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "حدیثاً" ہم نے نسخہ (ب) سے ثابت کیا ہے، یہ نسخہ (م) اور (ص) میں موجود نہیں تھا۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6831 in Urdu