المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1016. تَزَوُّجُ النَّبِيِّ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا
حدیث نمبر: 6866
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو البَخْتري عبدُ الله بن شاكر، حَدَّثَنَا محمد بن بشر العَبْدي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: قالت عائشةُ، وكانت تُحدِّث نفسها أن تُدفَن في بيتها مع رسولِ الله ﷺ وأبي بكر، فقالت: إني أحدَثتُ بعدَ رسول الله ﷺ حَدَثًا، ادفِنُوني مع أزواجه، فدُفنت بالبقيع (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6717 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6717 - على شرط البخاري ومسلم
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے دل میں یہ خواہش رکھتی تھیں کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے حجرے میں ہی دفن کیا جائے، لیکن پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (اپنی زندگی میں) کچھ نئے معاملات کیے ہیں، لہٰذا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج کے ساتھ ہی دفن کرنا،“ چنانچہ انہیں البقیع میں دفن کیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6866]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6866]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6866] [ترقيم الشركة 6786] [ترقيم العلميه 6717]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6866 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 73 من طريق حسن بن صالح، وابن أبي شيبة 3/ 349 و 260/ 15 عن أبي أسامة حماد بن أسامة، كلاهما عن إسماعيل بن أبي خالد، به. وروايتا ابن أبي شيبة مختصرتان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 10/ 73 میں حسن بن صالح کے طریق سے، اور ابن ابی شیبہ 3/ 349 اور 260/ 15 نے ابو اسامہ حماد بن اسامہ سے روایت کیا، یہ دونوں اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ اور ابن ابی شیبہ کی دونوں روایات مختصر ہیں۔
قال الذهبي في "السير" 2/ 193: تعني بالحَدَث مسيرها يومَ الجَمَل، فإنها ندمت ندامة كلية، وتابت من ذلك، على أنها ما فعلت ذلك إلَّا متأولةً، قاصدةً للخير، كما اجتهد طلحةُ بن عبيد الله والزُّبير بن العوام وجماعةٌ من الكِبار، رضي الله عن الجميع.
📝 نوٹ / توضیح: حافظ ذہبی "السیر" 2/ 193 میں فرماتے ہیں: "حدث" (نئی چیز) سے ان کی مراد جنگِ جمل کے دن ان کا نکلنا تھا، یقیناً وہ اس پر کلی طور پر نادم ہوئیں اور اس سے توبہ کی، اس بات کے پیش نظر کہ انہوں نے یہ کام صرف تاویل کرتے ہوئے اور خیر کا ارادہ رکھتے ہوئے کیا تھا، جیسا کہ طلحہ بن عبید اللہ، زبیر بن عوام اور اکابرین کی ایک جماعت نے اجتہاد کیا تھا، اللہ ان سب سے راضی ہو۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6866 in Urdu