المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1084. سُؤَالُ أُمِّ كُلْثُومٍ زَوْجِي خَيْرٌ أَمْ زَوْجُ فَاطِمَةَ
سوال: سیدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کے شوہر بہتر تھے یا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر
حدیث نمبر: 7035
حدثنا أبو العباس إسماعيل بن عبد الله بن محمد بن ميكال، حدثنا عبد الله بن أحمد بن موسى الحافظ عَبْدانُ، حدثنا أيوب بن محمد الوزان، حدثنا الوليد بن الوليد، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن بكر بن عبد الله، عن أبيه، عن ابن عباس، عن أم كلثوم بنت النَّبيّ ﷺ أنها قالت: يا رسول الله، زوجي خير أو زوج فاطمة؟ قال: فسكت النَّبيّ ﷺ، ثم قال:"زوجُكِ ممَّن يُحبُّ الله ورسوله، ويُحبُّه الله ورسوله"، فولَّت، فقال لها:"هلُمِّي، ماذا قلتُ؟" قالت: قلت: زوجي ممَّن يُحِبُّ الله ورسوله ويحبُّه الله ورسوله، قال:"نعم، وأزيدك: دخلت الجنة فرأيتُ منزِلَه، ولم أرَ أحدًا من أصحابي يَعلُوه في منزله" (2) . ذكر بناتِ عبد المطلب عمَّاتِ رسول الله ﷺ وبنات عمه وأقاربه فمنهنَّ عمَّتُهُ صَفيَّةُ بنت عبد المطلب أختُ حمزة وأُمُّ الزُّبير بن العوام ﵃ أجمعين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6862 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6862 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرا شوہر (عثمان رضی اللہ عنہ) بہتر ہے یا فاطمہ کا شوہر (علی رضی اللہ عنہ)؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: ”تمہارا شوہر ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان سے محبت کرتے ہیں“، جب وہ واپس مڑنے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر آؤ، میں نے کیا کہا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: آپ نے فرمایا کہ میرا شوہر اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور میں تمہارے لیے ایک اضافہ کرتا ہوں: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ان کا مکان دیکھا اور میں نے اپنے صحابہ میں سے کسی کو ان کے مکان سے بلند مقام پر نہیں پایا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7035]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، الوليد بن الوليد - وهو العَنسي الدمشقي - متروك كما قال الدَّارَقُطْنيّ ونصر المقدسي، وقال ابن حبان: روى عن ابن ثوبان نسخة أكثرها مقلوب، وقال أبو نعيم الأصبهاني: روى عن محمد بن عبد الرحمن بن ثابت، موضوعات، وشذَّ أبو حاتم الرازي فقال: صدوق، ما بحديثه بأس!» [ترقيم الرساله 7035] [ترقيم الشركة 6956] [ترقيم العلميه 6862]
الحكم على الحديث: إسناده تالف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7035 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده تالف، الوليد بن الوليد - وهو العَنسي الدمشقي - متروك كما قال الدَّارَقُطْنيّ ونصر المقدسي، وقال ابن حبان: روى عن ابن ثوبان نسخة أكثرها مقلوب، وقال أبو نعيم الأصبهاني: روى عن محمد بن عبد الرحمن بن ثابت، موضوعات، وشذَّ أبو حاتم الرازي فقال: صدوق، ما بحديثه بأس!
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ولید بن ولید (عنسی دمشقی) "متروک" ہے جیسا کہ دارقطنی اور نصر مقدسی نے کہا۔ ابن حبان نے کہا: اس نے ابن ثوبان سے ایسا نسخہ روایت کیا جس کا اکثر حصہ الٹ پلٹ (مقلوب) ہے۔ ابو نعیم اصبہانی نے کہا: اس نے محمد بن عبدالرحمن بن ثابت سے "موضوعات" روایت کیں۔ البتہ ابو حاتم رازی نے شاذ رائے دی اور کہا: صدوق ہے، اس کی حدیث میں کوئی حرج نہیں!
بكر بن عبد الله: هو المزني البصري، ووالده عمرو بن هلال، له صحبة فيما قاله ابن سعد في "الطبقات" 9/ 30، والبخاري في "التاريخ الكبير" 5/ 29 وغيرهما.
📝 نوٹ / توضیح: بکر بن عبداللہ سے مراد مزنی بصری ہیں، اور ان کے والد عمرو بن ہلال کو صحابیت کا شرف حاصل ہے جیسا کہ ابن سعد نے "الطبقات" 9/ 30 میں اور بخاری نے "التاریخ الکبیر" 5/ 29 وغیرہ میں کہا ہے۔
ولم نقف على هذا الخبر عند غير المصنف.
📌 اہم نکتہ: ہمیں یہ خبر مصنف کے علاوہ کہیں اور نہیں ملی۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7035 in Urdu