🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. مَسْنُونِيَّةُ التَّحْمِيدِ بَعْدَ الْأَكْلِ
کھانے کے بعد اللہ کی حمد و ثنا کرنے کی مسنونیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7376
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي مَيْسرة، عن عائشة قالت: كانت لنا شاةٌ، فخَشِينا أن تموتَ، فقتلناها وقَسَمناها إِلَّا كَتِفَها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7193 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک بکری تھی، ہمیں اس کے مر جانے کا اندیشہ ہوا تو ہم نے اسے ذبح کر دیا اور اس کے کندھے کے گوشت کے علاوہ باقی تمام حصہ (صدقہ و خیرات میں) تقسیم کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7376]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، إسرائيل: هو ابن يونس بن عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو إسحاق جده، وأبو ميسرة: هو عمرو بن شرحبيل الهمداني الكوفي.» [ترقيم الرساله 7376] [ترقيم الشركة 7289] [ترقيم العلميه 7193]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7376 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح إسرائيل: هو ابن يونس بن عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو إسحاق جده، وأبو ميسرة: هو عمرو بن شرحبيل الهمداني الكوفي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود "إسرائیل" سے مراد اسرائیل بن یونس بن عمرو بن عبد اللہ السبیعی ہیں، اور "ابو اسحاق" ان کے دادا ہیں، جبکہ "ابو میسرہ" سے مراد عمرو بن شرحبیل الہمدانی الکوفی ہیں۔
ورواية المصنف مختصرة، وجاء بتمامه عند البيهقي في "الشعب" (3086) من طريق عبد الله بن رجاء عن إسرائيل، به، بلفظ: قال عائشة: كانت لنا شاةٌ أرادت أن تموتَ، فذبحناها فقسمناها، فجاء النبيُّ ﷺ فقال: "يا عائشةُ، ما فعلت شاتُكم؟ "قالت: أرادت أن تموتَ فذبحناها، فقسمناها ولم يبقَ عندنا منها إلَّا كتفُ الشاة، قال: "كلُّها لكم إلّا الكتف". وأخرجه أحمد 40 / (24240)، والترمذي (2470) من طريق سفيان الثَّوري، عن أبي إسحاق السبيعي، به مختصرًا. وصحَّحه الترمذي.
🧾 تفصیلِ روایت: مصنف کی روایت مختصر ہے، جبکہ امام بیہقی نے "شعب الایمان" (3086) میں عبد اللہ بن رجاء عن اسرائیل کے طریق سے اسے مکمل الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بکری تھی جو مرنے کے قریب ہوئی تو اسے ذبح کر کے تقسیم کر دیا گیا، نبی ﷺ نے پوچھا: "اے عائشہ! بکری کا کیا ہوا؟" عرض کیا: "تقسیم کر دی، بس ایک دستی (کندھا) باقی بچا ہے"، آپ ﷺ نے فرمایا: "کندھے کے علاوہ وہ سب تمہارے لیے (آخرت کا ذخیرہ) بن گئی"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (40/ 24240) اور امام ترمذی نے (2470) میں سفیان ثوری عن ابی اسحاق السبیعی کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7376 in Urdu