🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ
تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7464
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا يحيى بن سعيد القَطَّان، عن عوف. وأخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا عَوف بن أبي جَميلة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن عبد الله بن سَلَام، قال: لمَّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ جَفَل (2) الناس إليه، وقيل: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ، فجئتُ في الناس لأنظرَ إليه، فلما استبَنَتُ وجهَ رسول الله ﷺ، عرفتُ أن وجهَه ليس بوجه كذّاب، فكان أولَ شيء تكلَّم به أن قال:"يا أيُّها الناسُ، أَفشُوا السلامَ، وأطعِمُوا الطعامَ، وصِلُّوا الأرحامَ، وصَلُّوا والناسُ نِيامٌ، تَدخلُوا الجنَّة بسَلَام" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ) تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑے، اور کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، میں بھی لوگوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے گیا، پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھا تو میں پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی بات جو ارشاد فرمائی وہ یہ تھی: ”اے لوگو! سلام کو رواج دو (عام کرو)، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کو اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7464]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7464] [ترقيم الشركة 7373]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7464 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: جعل. وجَفَل: أسرع.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "جعل" بن گیا ہے۔ جبکہ درست لفظ "جَفَل" ہے جس کا مطلب ہے: اس نے جلدی کی۔
(3) إسناده صحيح. وسلف الحديث برقم (4329) وتكلمنا هناك على سماع زرارة بن اوفى من عبد الله بن سلام.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث پہلے نمبر (4329) پر گزر چکی ہے اور وہاں ہم نے زرارہ بن اوفیٰ کے عبد اللہ بن سلام سے سماع پر کلام کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23784)، وابن ماجه (1334)، والترمذي (2485) من طريق يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث صحيح
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (39/ 23784)، ابن ماجہ (1334) اور ترمذی (2485) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7464 in Urdu