المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. كَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَلْبَسُوا الصُّوفَ
انبیاء علیہم السلام اونی لباس پہننا پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 7575
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا أبو قِلَابة، حَدَّثَنَا يحيى بن حمّاد، حَدَّثَنَا أبو عَوَانة، عن قَتَادة عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى (1) ، قال: لقد رأيتُنا معَ النَّبِيِّ ﷺ وأصابَتْنا السماء، فكأنَّ برِيحِنا ريحَ الضَّأْن (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7388 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7388 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا جب ہم پر بارش ہوئی (اور ہمارے اونی کپڑے بھیگ گئے) تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہماری بو بھیڑوں کی بو کی طرح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7575]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7575]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7575] [ترقيم الشركة 7484] [ترقيم العلميه 7388]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7575 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز): أبو موسى عن أبيه، وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) میں: "ابو موسیٰ عن ابیہ" ہے، اور یہ غلط ہے۔
(2) رجاله لا بأس بهم، لكن لا يعرف لقتادة سماع من أبي بردة - وهو ابن أبي موسى الأشعري - كما قال ابن معين، وانظر في ذلك التعليق على الرواية السالفة برقم (2661)، وفاتنا ذكر ذلك في "مسند أحمد" وغيره. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) اس کے رجال میں کوئی خرابی نہیں (لا بأس بہم)، لیکن قتادہ کا ابو بردہ (ابن ابی موسیٰ اشعری) سے سماع معروف نہیں ہے جیسا کہ ابن معین نے کہا ہے۔ اس بارے میں پچھلی روایت نمبر (2661) پر تعلیق ملاحظہ کریں، ہم "مسند احمد" وغیرہ میں اس کا ذکر کرنے سے رہ گئے تھے۔ ابو عوانہ سے مراد "وضاح بن عبد اللہ یشکری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 32/ (19759)، وأبو داود (4073)، والترمذي (2479) من طرق عن أبي عوانة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (32/ 19759)، ابوداؤد (4073) اور ترمذی (2479) نے ابو عوانہ سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔
وأخرجه أحمد (19758)، وابن ماجه (3562)، وابن حبان (1235) من طرق عن قتادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (19758)، ابن ماجہ (3562) اور ابن حبان (1235) نے قتادہ سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأما ما رواه البزار في "مسنده"" (3134) من طريق عبد الله بن الربيع، عن سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن أبي بردة فغريب انفرد بهذا الطريق عبد الله بن الربيع، ولا يعرف.
📖 حوالہ / مصدر: رہی وہ روایت جسے بزار نے اپنی "مسند" (3134) میں عبد اللہ بن ربیع کے طریق سے، انہوں نے سلیمان بن مغیرہ سے، انہوں نے حمید بن ہلال سے اور انہوں نے ابو بردہ سے روایت کیا ہے، تو وہ غریب ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس طریق میں عبد اللہ بن ربیع منفرد ہیں اور وہ معروف (پہچانے ہوئے) نہیں ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7575 in Urdu