المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. كَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَلْبَسُوا الصُّوفَ
انبیاء علیہم السلام اونی لباس پہننا پسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 7579
أخبرنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حَدَّثَنَا العباس بن محمد بن حاتم (2) الدُّوري، حَدَّثَنَا الحسن بن بِشر، حَدَّثَنَا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد القُرشي، عن أبيه، عن أُمِّ خالد بنتِ خالد قالت: أُتي رسولُ الله ﷺ بثياب فيها خَمِيصة، فقال لأصحابه:"مَن ترونَ أحقُّ بهذه الخَمِيصة؟" فسكتوا، فدعا أُمَّ خالد، فأَلبَسَها إياها، ثم قال:"أَبْلِي يا بُنَيَّةُ وأَخْلِقي، وأَبْلِي وأَخْلِقي، أَبْلِي وأَخْلِقي"، قال: وكان فيها عَلَمٌ أحمر، فأقبلَ يقول:"يا أمَّ خالد، سَنَا" (3) . والسَّنَا بالحبشية: الحَسَن.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7392 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7392 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں ایک کالی چادر (خمیصہ) بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے دریافت فرمایا: ”تمہارے خیال میں اس چادر کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟“ سب خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد کو بلایا اور انہیں وہ چادر خود پہنا دی، پھر فرمایا: ”اے میری بیٹی! اسے پہن کر پرانا کرو اور پھاڑو (یعنی تمہاری عمر لمبی ہو)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، اس چادر پر سرخ رنگ کے نقش و نگار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”اے ام خالد! سنا“ اور حبشی زبان میں «سنا» کا مطلب خوبصورت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7579]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7579]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن بشر» [ترقيم الرساله 7579] [ترقيم الشركة 7488] [ترقيم العلميه 7392]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7579 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حبان.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حبان" بن گیا ہے۔
(3) حديث صحيح وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل الحسن بن بشر - وهو البجلي - وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند حسن بن بشر (بجلی) کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وسلف الحديث برقمي (2398) و (4294).
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (2398) اور (4294) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7579 in Urdu