🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. يُغْفَرُ لِمَنْ يُضَحِّي عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنَ الدَّمِ
قربانی کرنے والے کی مغفرت خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی کر دی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7714
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا النَّضر بن إسماعيل البَجَلي، حدثنا أبو حمزة الثُّمَالي، عن سعيد بن جُبير، عن عمران بن حُصين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يا فاطمةُ، قُومي إلى أُضحيَّتِكِ فَاشْهَدِيها، فإنه يُغفَرُ لك عند أوّل قطْرةٍ تقطُر من دمِها كلُّ ذنبٍ عَملتِيه، وقولي: إِنَّ صلاتي ونُسُكي ومَحْيايَ وَمَمَاتي لله ربِّ العالمين، لا شريكَ له، وبذلك أُمرتُ وأنا من المسلمين"، قال عمرانُ: قلتُ: يا رسولَ الله، هذا لكَ ولأهلِ بيتِك خاصَّةً -فأهل ذاك أنتم- أَمْ للمسلمين عامَّةً؟ قال:"لا، بل للمسلمين عامَّةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث عطيةَ عن أبي سعيد الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7524 - بل أبو حمزة ضعيف جدا
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اپنی قربانی کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اسے (ذبح ہوتے ہوئے) دیکھو، کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے تمام سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور تم یہ کہو: ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ ”بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“ [سورة الأنعام: 162-163] “ عمران رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ فضیلت خاص طور پر آپ اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی عطیہ کی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7714]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو حمزة الثمالي» [ترقيم الرساله 7714] [ترقيم الشركة 7622] [ترقيم العلميه 7524]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7714 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، أبو حمزة الثمالي - وهو ثابت بن أبي صفية- ضعيف، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"، وقال أيضًا [النضر بن] إسماعيل ليس بذاك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو حمزہ ثمالی (جن کا نام ثابت بن ابی صفیہ ہے) ضعیف راوی ہیں، امام ذہبی نے 'التلخیص' میں اسی وجہ سے علت بیان کی ہے۔ نیز انہوں نے نضر بن اسماعیل کے بارے میں بھی کہا کہ وہ قابلِ حجت نہیں ہیں۔
وأخرجه الروياني في "مسنده" (138)، والطبراني في "الكبير" (18/ (600)، وفي "الأوسط" (2509)، وفي "الدعاء" (947)، وابن عدي في "الكامل" 7/ 26، والبيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 238 - 239 و 9/ 283، وفي "الشعب" (6957)، وفي "الدعوات" (5451)، وفي "فضائل الأوقات" بإثر (212) من طرق عن النضر بن إسماعيل البجلي بهذا الإسناد. وقال الطبراني في "الأوسط": لا يروى عن عمران بن حصين إلّا بهذا الإسناد، وتفرَّد به أبو حمزة. وقال البيهقي في "السنن": لم نكتبه من حديث عمران إلّا من هذا الوجه، وليس بقوي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے رویانی 'مسند' (138)، طبرانی 'الکبیر' (18/600)، 'الاوسط' (2509)، 'الدعاء' (947)، ابن عدی 'الکامل' (7/26) اور بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' (5/238، 9/283) سمیت دیگر کتب میں نضر بن اسماعیل بجلی کے طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام طبرانی فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین سے یہ روایت صرف اسی سند سے مروی ہے اور ابو حمزہ اس میں منفرد ہیں۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ روایت صرف اسی ایک طریقے سے ملتی ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔
وفي الباب عن علي بن أبي طالب عند عبد بن حميد (78) والبيهقي 9/ 283، وسنده ضعيف جدًا لا يُفرح به.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے جو عبد بن حمید (78) اور بیہقی (9/283) کے ہاں ہے، مگر اس کی سند سخت ضعیف ہے جو کسی کام کی نہیں۔
وانظر حديث أبي سعيد التالي، وحديث جابر السالف برقم (1734).
📝 نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں آگے آنے والی حضرت ابو سعید کی حدیث اور پیچھے گزر چکی حضرت جابر کی حدیث نمبر (1734) ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7714 in Urdu