مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قتل السحرة
جادوگروں کے قتل کا بیان
حدیث نمبر: 1614
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا بَالُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ. قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ. قَالَ: وَفِيمَ؟ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رُعُوفَةٍ أَوْ عُوفَةٍ، شَكَّ رَبِيعٌ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ. قَالَ: فَجَاءَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ ص: 294 ] فَقَالَ:"هَذِهِ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ". فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا، قَالَ سُفْيَانُ، يَعْنِي: تَنَشَّرْتَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ:"أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا". قَالَ: وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَعِمَارَةِ الْأَرْضِينَ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے جس کام کے بارے میں رہنمائی طلب کی تھی اللہ نے اس کے بارے میں میری رہنمائی فرما دی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کافی مدت یہی حالت رہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے کسی سے ہم بستری کی ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کی ہوتی۔ میرے پاس دو آدمی (فرشتے) آئے، ایک میرے پاؤں کے پاس اور دوسرا میرے سر کے پاس (کھڑا ہو گیا)۔ میرے پاؤں کے پاس کھڑے نے سر کے پاس کھڑے سے کہا: ”اس آدمی کا کیا حال ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”اس پر جادو کر دیا گیا ہے۔“ اس نے پوچھا: ”کس نے اس پر جادو کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”لبید بن اعصم (یہودی) نے۔“ اس نے پھر پوچھا: ”کس چیز میں اس پر جادو کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”کنگھی میں اور کنگھی کے ساتھ سر سے اترے ہوئے بالوں میں، کھجور کے خوشے کے اندر جو ذروان کنویں میں رکھا ہوا ہے۔“ راوی نے کہا پھر اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکال لائے اور فرمایا: ”یہ وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا گویا اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں کی مانند تھے، اور اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور وہ اس سے نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! پس کیوں نہیں (یعنی آپ نے جادو کا توڑ ظاہر کیوں نہ کیا)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اللہ نے مجھے شفا دی ہے، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی وجہ سے لوگوں میں شر پھیلاؤں۔“ فرمایا: لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک آدمی تھا جو یہودیوں کے حلیف تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1614]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الطب، باب هل يستخرج السحر (5768) ومسلم، السلام، باب السحر (2189).»
Musnad Shafi Hadith 1614 in Urdu